مضامین بشیر (جلد 2) — Page 369
۳۶۹ مضامین بشیر کا میابی کو زیادہ پختہ بنانے کے لئے یہ فیصلہ کرے کہ مجھے دوسری پارٹی کے ساتھ ملاپ کر کے دشمن سے ٹکر لینی چاہیے۔ان دو صورتوں کے سوا جو دراصل دونوں جنگی تدبیر کا حصہ ہیں اسلام کی لغت میں دشمن کے سامنے بھی بھاگنے کے لئے کوئی لفظ موجود نہیں۔لڑائی میں مومنوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے مگر ان کے نقصان میں بھی ان کی فتح ہے: اسلام مسلمانوں کو ہرگز یہ جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا کہ وہ ہر جز وی مقابلہ میں بھی لا ز ما فتح پائیں گے۔ہاں وہ یہ ضرور فرماتا ہے کہ اگر تمہاری جنگ حق و صداقت پر قائم ہے تو تم انجام کا رضرور فتح پاؤ گے لیکن تمہیں اس بات کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ شاید درمیانی لڑائیوں میں تمہیں بھی کچھ نقصان پہنچے یا عارضی طور پر شکست کی صورت پیدا ہو جائے لیکن ایسے عارضی نقصانوں پر یا مال وجان کے درمیانی نقصان پر ہرگز گھبراؤ نہیں اور مایوسی کی طرف نہ جھکو بلکہ یا درکھو کہ عاقبت تمہاری ہے اور تم میں سے مرنے والے شہادت کا درجہ پاتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں فرماتا ہے : اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُوْنَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُوْنَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًان یعنی اے مسلمانو! اگر جنگ میں کبھی تمہیں کوئی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے تو اس سے گھبراؤ نہیں کیونکہ جس طرح تمہیں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے ، اس طرح بلکہ اس سے بڑھ کر کا فروں کو بھی تکلیف پہنچتی اور ان کا بھی نقصان ہوتا ہے لیکن تم خدا سے اس بات کی امید رکھتے ہو جو کا فر ہرگز نہیں رکھتے۔اس آیت میں اشارہ یہ ہے اگر مسلمانوں کو کبھی لڑائی میں کوئی مالی یا جانی نقصان ہوتا ہے تو ایسا نقصان کفار کا بھی ہوتا ہے اور اگر نقصان کے فرق کو نظر انداز بھی کیا جائے تو بہر حال اس پہلو سے دونوں برابر ہیں لیکن مسلمانوں کو یہ بھاری امتیاز حاصل ہے کہ وہ خدا سے اس بات کی امید رکھتے ہیں جس کی کا فرلوگ ہر گز امید نہیں رکھتے اور نہ رکھ سکتے ہیں۔یہ امید کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب دو طرح دیا جاسکتا ہے اول یہ کہ درمیانی تکلیفوں اور درمیانی نقصانوں کے باوجود مسلمان یہ امید رکھتا ہے کہ آخری فتح بہر حال اسی کی ہوگی کیونکہ خدا کا یہ ازلی حکم جاری ہو چکا ہے کہ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِین انجام ہر حال میں متقیوں کا ہے۔دوسرے یہ کہ جو مسلمان لڑائی میں مارا جاتا ہے ، وہ یہ امید بلکہ یقین رکھتا ہے کہ میں خدا کے رستہ میں شہید ہوا ہوں اور آخرت میں ان تمام انعاموں کا وارث بنوں گا جو شہیدوں کے لئے مقدر ہیں مگر ایک کا فراس نیک انجام کی امید نہیں رکھتا اور نہیں رکھ سکتا۔پس غور سے سے دیکھا -