مضامین بشیر (جلد 2) — Page 371
غالب آئے گا۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ: ۳۷۱ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنُ مضامین بشیر مِنْكُمْ مِائَةٌ تَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَO یعنی اے مومنو اگر تم میں ہیں آدمی صبر و استقلال کے مقام پر قائم رہنے والے مجاہد ہوں تو وہ دوسو کافروں پر غالب آئیں گے اور اگر ایک سوصا بر مجاہد ہوں تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کا فراپنی جنگ کی دینی اور دنیوی فقہ کو نہیں سمجھتا اور تم سمجھتے ہو“۔اس آیت میں قرآن شریف اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ جنگ کی غرض وغایت اور اس کے امکانی نتائج کو سمجھنے والی قوم وہ روحانی طاقت حاصل کر لیتی ہے جو دوسروں کو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی بشر طیکہ وہ صبر و استقلال کے مقام پر قائم رہے اور اپنا سیکھا ہوا سبق نہ بھلا دے۔یہ وہ عظیم الشان نکتہ ہے کہ اگر مسلمان اس پر قائم ہو جائیں یعنی اول سچے مومن بن جائیں دوم صبر واستقلال کے مقام پر قائم ہو جائیں اور سوم پیش آمدہ جنگ کی دینی اور دنیوی فقہ کو سمجھیں اور اس سمجھ کو اپنے لئے مشعل راہ بنا ئیں تو اس میں ہر گز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ان کے ہیں مجاہد دوسو کافروں پر غالب آ سکتے ہیں اور سو مجاہد ہزار کا فروں کو نیچا دکھا سکتے ہیں بلکہ صحابہ رضوان اللہ علہیم کی تاریخ میں تو اس سے بھی بڑھ کر روحانی طاقت کی مثالیں نظر آتی ہیں۔پس ضروری ہے کہ ملک کا ہر فرد ہر پیش آمدہ جنگ کی غرض و غایت سے واقف ہوا اور اس کے تمام امکانی نتائج کو سمجھتا اور جانتا ہو اور یہ تفقہ پیدا کرنا حکومت اور پریس اور پبلک اداروں کا کام ہے۔صلح کی طرف جھکنے والے دشمن کے صلح کے ہاتھ کو رد نہ کرو اسلام چونکہ ایک روحانی مذہب ہے اور اس کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ اسلام کی تبلیغ ہے جس سے اس کو کسی صورت میں غافل نہیں رہنا چاہئے۔اس لئے جنگی ضابطہ کی تعلیم دیتے ہوئے اسلام یہ ہدایت بھی فرماتا ہے کہ اگر دشمن کسی وقت اپنی کمزوری محسوس کر کے تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائے تو اس ہاتھ کو رد نہ کرو بلکہ اس کی صلح کی پیش کش کو قبول کر لو اور جنگ کے ظاہری مستقبل کو خدا پر چھوڑ دو چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے : وَإِنْ جَنَحُوْ الِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللهِ -