مضامین بشیر (جلد 2) — Page 359
۳۵۹ مضامین بشیر مرکز پاکستان کا افتتاح ایک غیر ذی زرع وادی میں روح پرور نظارے قادیان سے باہر آنے کے بعد سب سے زیادہ ضروری سوال جو حضرت امیرالمؤمنین خلیفہ المسیح الثانی اید و الله بنصرہ العزیز کے زیر غور تھا وہ مرکز پاکستان کے قیام سے تعلق رکھتا تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ خلافت کا وجود اپنی ذات میں ایک عظیم الشان مرکز ہے لیکن اس شخصی مرکز کے علاوہ ہر ترقی کرنے والی جماعت اور خصوصاً ہر ایسی جماعت کو ایک جغرافیائی مرکز کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے، جہاں جماعت کے مرکزی ادارے اور جماعت کے مرکزی کارکن اور دیگر افراد جماعت جو مرکز میں رہائش اختیار کرنا چاہیں اکٹھے ہو کر اپنے مخصوص ماحول میں زندگی گزار سکیں۔یہ مرکزیت ہمیں لاہور میں حاصل نہیں تھی۔کیونکہ ایک تو لاہور میں ہمارے پاس اتنے مکانات نہیں تھے کہ اپنے سب اداروں اور اپنے سب کا رکنوں کو ایک جگہ آباد کر سکیں یا آنے جانے والے مہمانوں کا انتظام کر سکیں اور دوسرے ایک وسیع شہر میں جس میں ہر قسم کے عناصر آباد ہیں اپنا مخصوص ماحول پیدا کرنا مشکل تھا۔اس لئے خاص کوشش کے ساتھ ایسی جگہ تلاش کی گئی جو غیر آباد اور بنجر ہو اور گورنمنٹ اسے فروخت کرنے میں تامل نہ محسوس کرے تا کہ ایسا قطعہ اراضی حاصل کر کے وہاں قادیان سے آئے ہوئے اداروں اور کارکنوں اور دیگر افراد جماعت کو ایک بستی کی صورت میں آباد کیا جا سکے۔سو الحمد للہ کہ کافی تلاش کے بعد چنیوٹ ضلع جھنگ کے قریب دریائے چناب کے پار ایک ایسا رقبہ مل گیا جو بالکل بنجر اور غیر آباد تھا اور صدیوں سے بنجر اور غیر آباد چلا آتا تھا بلکہ وہ بالکل نا قابل آبادی اور نا قابلِ زراعت سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ یہ رقبہ جو دس سو چونتیس ایکڑ پر مشتمل ہے ، گورنمنٹ سے خرید لیا گیا۔اور گو اس قطعہ کی صورت اور ہئیت جس کا طول بہت زیادہ ہے اور عرض نسبتاً کم اور اس کے اندر سے گذرنے والی ریلوے لائن اور پختہ سڑک اور پہاڑی ٹیلوں کی وجہ سے یہ قطعہ کئی حصوں میں تقسیم شدہ بھی ہے۔وہ اچھی آبادی کے زیادہ مناسب نہیں مگر بہر حال جو چیز مل سکی وہ خدا کے شکر کے ساتھ قبول کر لی گئی اور اب اس میں قادیان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں اور صدر انجمن احمدیہ کے اداروں کے واسطے بستی آباد کرنے کی تجویز کی جارہی ہے۔یہ رقبہ چنیوٹ سے قریباً ۵ میل