مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 360 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 360

مضامین بشیر ۳۶۰ پرے واقع ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے لائکپور اور سرگودھا کے عین وسط میں ہے ، یعنی اس سے قریباً ۲۸ میل جنوب مشرق میں لائل پور کا شہر آباد ہے اور قریباً ۲۸ میل شمال مغرب میں سرگودھا کا شہر آباد ہے۔اس رقبہ کی زمین بظا ہر ادنیٰ درجے کی ہے جو کچھ شور کا مادہ بھی رکھتی ہے ، مگر خدا چاہے تو اس بنجر اور غیر ذی زرع رقبہ میں مکہ کی پاک زمین کے طفیل جس کے دین کی خدمت کے لئے جماعت احمدیہ اپنی ساری توجہ وقف رکھتی ہے غیر معمولی برکت عطا کر سکتا ہے۔وَذَرُ جُوَامِنُهُ خَيْراً۔۔وَنَرْجُوَا۔اس آبادی کا اصل افتتاح تو اسوقت ہوگا جبکہ اس آبادی کی سب سے پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائیگا لیکن حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مناسب خیال کیا کہ پہلے قدم کے طور پر اس رقبہ میں جا کر ایک نماز ادا کی جائے اور خدا کے حضور دعا کی جائے کہ وہ اس نئی قائم ہونے والی آبادی کو اپنے فضلوں اور رحمتوں اور برکتوں سے نوازے اور اس میں آباد ہونے والے لوگوں کو اسلام کی خدمت کی توفیق عطا کرے اور قیامت تک عطا کرتا چلا جائے۔چنانچہ ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کو یعنی بروز پیر (دوشنبه) یہ ابتدائی افتتاح وقوع میں آ گیا اور حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے وہاں جا کر ایک بڑے مجمع کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی۔اس موقع پر ایک وسیع شامیانہ اور کچھ خیمے نصب کر دیئے گئے تھے اور چنیوٹ اور احمد نگر اور لالیاں اور سرگودھا کے علاوہ کئی دوست لاہور سے بھی اس بابرکت تقریب میں شامل ہونے کے لئے پہنچ گئے تھے۔نماز ظہر ڈیڑھ بجے شروع ہوئی جس میں تقریباً اڑھائی سو احباب شریک تھے۔اس کے بعد شریک ہونے والے اصحاب کی فہرست تیار کی گئی اور پھر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت درجہ مؤثر اور درد سے بھری ہوئی تقریر کے بعد حاضرین کے ساتھ مل کر لمبی دعا کی۔اس دعا کے بعد برکت کے خیال سے پانچ بکرے ذبح کئے گئے ، جن میں سے ایک اس رقبہ کے وسط میں ذبح کیا گیا اور چار چاروں کونوں میں ذبح کئے گئے۔وسط والا بکرا خود حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ نے مسنون دعائیہ الفاظ کے ساتھ اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔اس کے بعد تھوڑے سے وقفہ سے اسی مقام پر جہاں شامیانہ کے نیچے ظہر کی نماز ادا کی گئی تھی ، عصر کی نماز پڑھی گئی۔جس میں کچھ اوپر پانچ سو احباب نے شرکت کی اور بعض مستورات بھی جو اس وقت تک وہاں پہنچ چکی تھیں پردہ کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز میں شامل ہوئیں۔نماز کے بعد صبح کا کھانا کھایا گیا ، جس کے لئے چنیوٹ کے دوستوں نے انتظام کیا تھا اور پھر چار بجکر چالیس منٹ پر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ لاہور کی طرف واپس روانہ ہو گئے۔لاہور سے حضور کی روانگی نو بج کر بیس منٹ پر ہوئی تھی اور لاہور میں واپسی آٹھ بجکر پانچ منٹ پر ہوئی۔مرکز پاکستان میں پہنچنے کا وقت ایک بجکر بیس منٹ تھا۔سفر کے لئے جو موٹروں میں کیا گیا، لائکپور کا رستہ اختیار کیا