مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 358 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 358

مضامین بشیر ۳۵۸ ہے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ اس بچہ کی وفات پر مجھے بہت صدمہ ہو ا حتی کہ جب میں اس کے جنازہ کے لئے کھڑا ہوا تو میری طبیعت پر اتنا بوجھ تھا کہ میری زبان سے الحمد للہ کے الفاظ نہیں نکلتے تھے۔اور میرا دل کہہ رہا تھا کہ جب میری آئیندہ نسل کا آخری تالاٹوٹ چکا ہے تو پھر میں کس منہ سے خدا کا شکر ادا کروں؟ فرماتے تھے کہ اس پر میں ایک دولحات کے لئے دم بخود ہو کر کھڑا رہا۔اور میرے نفس میں متضاد جذبات کی کش مکش ہو رہی تھی لیکن پھر ایک بھاری سیلاب کی طرح میرے دل میں یہ خیالات موجزن ہوئے کہ نورالدین ! تجھ پر خدا نے یہ فضل کیا اور یہ فضل کیا اور یہ فضل کیا اور تجھے دین کے علم و عمل سے سرفراز کیا ، اور بالآخر اپنے پاک مسیح موعود کی شناخت اور قرب کی سعادت عطا کی تو کیا اتنے بھاری انعاموں کے ہوتے ہوئے تو ایک بچہ کے مرنے پر جو وہ بھی خدا ہی کا دیا ہوا تھا خدا کی حمد ادا کرنے سے رُکتا ہے؟ فرماتے تھے کہ اس کے بعد میری زبان سے الحمد للہ کے الفاظ اس زور کے ساتھ نکلے کہ سارے مقتدی چونک گئے۔یہ وہ ایمان ہے جو اسلام ہر مومن میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ حق یہی ہے کہ ہمارے خدا نے ہمیں اتنی میٹھی قاشیں دے رکھی ہیں کہ ہم ایک آدھ یا دو چار تلخ قاشوں کے کھانے پر چیں بجبیں ہوتے یا منہ بناتے اچھے نہیں لگتے۔وَاخِرُ دَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين - نوٹ :۔ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر اسحاق صاحب مرحوم اور بڑے ماموں حضرت میر اسماعیل صاحب مرحوم اور سلسلہ کے بزرگ ترین عالم حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مرحوم اور سلسلہ کے فرشتہ سیرت بزرگ حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور بالآخر ہماری چھوٹی بھا وجہ کے والد محترم اخویم سیّد عزیز اللہ شاہ صاحب مرحوم کی وفات پر نوٹ لکھنا میرے مدنظر ہے۔اور میری یادداشت میں درج ہے مگر ان کی وفات کے ساتھ متصل ہو کر بعض ایسے واقعات پیش آتے رہے اور میرے دل کی کیفیت بھی ایسی رہی کہ میں آج تک کچھ نہیں لکھ سکا۔انشاء اللہ بشرط زندگی کبھی لکھونگا ورنہ دل کی یا ددُعا میں تو بہر حال منتقل ہوتی رہے گی۔( مطبوعه الفضل ۱۹ ستمبر ۱۹۴۸ء )