مضامین بشیر (جلد 2) — Page 336
مضامین بشیر ۳۳۶ بالذات مقصود ہے۔مگر اب اس قسم کے برتنوں کے استعمال میں ہرج نہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا: نَهَيتُكُم عَنِ الاشرِ لَةٍ فِي ظُرُوف الادَمَ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غيران لا تَشْرَبُوا مُسكِرًا - یعنی میں نے تمہیں بعض خاص قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع کیا تھا۔لیکن اب تم ہر قسم کا برتن استعمال کر سکتے ہو۔مگر بہر حال شراب ہرگز نہ پیو“ اسی طرح مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں یہ دیکھ کر کہ قبروں پر مسلمانوں کا جانا شرک کا موجب بن سکتا ہے۔ارشاد فرمایا کہ مسلمان قبروں کی زیارت کے لئے نہ جایا کریں لیکن جب دیکھا کہ قوم اس قسم کے شرک کے خطرہ سے محفوظ ہو چکی ہے۔تو پھر آپ نے خود فرمایا کہ: نهيتكم عن زيارة القبور، فَزُوروها _ د یعنی میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا مگر اب وہ غرض حاصل ہو چکی۔اس لئے اب تم بے شک نیک لوگوں کی قبروں پر زیارت اور دعا کے لئے جایا کرو کیونکہ اس سے دلوں میں خشیت پیدا ہوتی ہے“ اوپر کی مثالوں سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک ذاتی جیسے کہ شرک اور شراب کی حرمت ہے جو بالذات مقصود ہے۔اور دوسرے نسبتی جیسے کہ شروع میں قبروں پر جانے سے روکا گیا یا جیسے کہ اس قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع کیا گیا۔جن میں عرب لوگ شراب پیا کرتے تھے۔حالانکہ یہ چیزیں اپنی ذات میں بری نہیں ہیں۔اس کے علاوہ اوپر کی مثالوں سے یہ بات بھی قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اصل حرمت وہی ہے جو ذاتی ہو اور بالذات مقصود ہو،مگر اس کے مقابل پر نسبتی حرمت اصلی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ بالذات مقصود ہوتی ہے، بلکہ بعض اوقات حالات کے بدلنے سے بدل بھی جاتی ہے ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کی زیارت اور شراب کے برتنوں کو ایک دفعہ ممنوع قرار دے کر پھر جائز قرار دیتے۔پس فوٹو کا سوال اول تو حدیث کے اس فتویٰ کے ماتحت آتا ہی نہیں جو بت تراشی یا ہاتھ سے تصویر بنانے کے متعلق دیا گیا ہے۔کیونکہ بت تراشی اور تصویر کشی ہاتھ کی صنعت ہیں۔مگر فوٹو نیچر کے حکیمانہ قانون کا اسی طرح کا طبعی نتیجہ ہے جس طرح کہ آئینہ کے سامنے کی تصویر نیچر کے ایک قانون طبعی کا نتیجہ ہوتی ہے۔دوسرے اصل چیز جس کی وجہ سے بت تراشی اور تصویر کشی منع کی گئی ، شرک ہے۔پس جب حالات کے بدل جانے سے شرک کا احتمال بالکل باقی نہ رہے تو ذاتی حرمت والی چیز تو بہر حال منع ہی