مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 337 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 337

۳۳۷ مضامین بشیر رہے گی لیکن نسبتی حرمت والی چیز کا حکم بعض صورتوں میں بدل جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ آج کل اکثر غیر احمدی علماء بھی جو آج سے چند سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کے فوٹو انے پر اعتراض کیا کرتے تھے ، اب وہ فوٹو کو جائز قرار دیتے ہیں۔بلکہ بیشتر نامورمولوی صاحبان خود اپنے فوٹواتر واکر اس کے جواز پر مہر تصدیق ثبت کر چکے ہیں۔بایں ہمہ ایک احتیاط ضروری ہے۔اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔اور وہ یہ کہ چونکہ اولیاء اللہ اور خاص بزرگانِ دین کے فوٹواتر وانے میں ایک طرف یہ خطرہ ہوسکتا ہے کہ کسی زمانہ میں ایسے فوٹوؤں کی کثرت جاہل لوگوں کے لئے شرک کی محرک نہ بن جائے اور دوسری طرف ان کی کثرت غافل لوگوں کے دل میں بے حرمتی کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ تاکیدی فتویٰ تھا کہ اول تو ایسے فوٹو صرف کسی جائز ضرورت کے لئے تیار کر وائے جائیں اور پھر باوجود اس کے یہ مزید احتیاط بھی رکھی جائے کہ وہ غیر ذمہ دار لوگوں یا بچوں کے ہاتھ میں پڑکر گلی کوچوں میں خراب نہ ہوں۔چنانچہ جب ایک احمدی دوست نے سادہ پوسٹ کارڈوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو کثیر تعداد میں چھپوایا اور ان دوست کی غرض یہ تھی کہ جماعت کے افراد غیر احمدیوں کے ساتھ خط و کتابت کرتے ہوئے ان پوسٹ کارڈوں کو استعمال کریں تو اطلاع ملنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان تمام پوسٹ کارڈوں کو تلف کر وا دیا اور فرمایا کہ ہم نے تو ایک جائز تبلیغی غرض کے ماتحت فوٹو کھچوایا تھا۔اور یہ بالکل مناسب نہیں کہ اس قسم کے فوٹو ؤں کو اس طرح عام کر کے غیروں کے گلی کوچوں میں پھینکا جائے۔خلاصہ کلام یہ کہ : (۱) بت تراشی اور شرک کی نیت سے تصویر کشی بہر حال منع ہے اور اس کی حرمت مستقل ہے جو ہر حال میں مقصود ہے۔(۲) فوٹو کھینچوانا چونکہ تصویر کشی سے بالکل جدا گانہ چیز ہے اور قدرت کے قانون کا حکیمانہ اور طبعی نتیجہ ہے اس لئے وہ بت تراشی یا تصویر کشی کی حرمت کے حکم کے ماتحت نہیں سمجھا جا سکتا۔(۳) فوٹو تو در کنار گڑیا وغیرہ کا بنانا بھی جو بظاہر بت کی شکل رکھتی ہے اسلام میں منع نہیں کیونکہ نہ تو اس میں شرک کی نیت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے شرک پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔(۴) اصل حرمت ذاتی حرمت ہے۔جیسے کہ مثلاً شرک، شراب اور زنا وغیرہ حرام قرار دیئے گئے ہیں مگر وہ چیزیں جن میں ذاتی حرمت کا پہلو نہیں پایا جا تا بلکہ صرف نسبتی حرمت کا پہلو پایا جاتا ہے۔ان کی حرمت بالذات مقصود نہیں ہوتی اور وہ حالات کے بدلنے سے بدل سکتی ہے۔جیسا کہ آنحضرت