مضامین بشیر (جلد 2) — Page 335
۳۳۵ مضامین بشیر مولویوں کا کام ہے ، ورنہ دراصل فوٹو میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو شریعت کے کسی حکم سے ٹکراتی ہو بلکہ حق یہ ہے کہ اس ایجاد نے دنیا کے بہت سے میدانوں میں انسانیت کی نہایت قیمتی خدمت سرانجام دی ہے۔مثلاً بیماریوں کے علاج میں فوٹوگرافی کی قدر و قیمت ظاہر وعیاں ہے جسے آج کا ہر پڑھا لکھا بچہ تک جانتا ہے۔اسی طرح مجرموں کا سراغ لگانے میں فوٹوگرافی کے ذریعہ بہت بھاری فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔اسی طرح مختلف حکومتوں کے شہریوں کی شناخت کے لئے پاسپورٹوں میں فوٹوؤں کا اندراج کئی قسم کے فتنوں کے انسداد کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح کے کئی اور ضروری اور اہم فوائد ہیں جو فوٹو گرافی سے حاصل کئے جاتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ مسیحی لوگ تو حضرت عیسے علیہ السلام کی معصومانہ تصویر بنا کر یا ان کی صلیب کا ہولناک نظارہ پیچ کر اور پھر فو ٹو گرافی کے ذریعہ ان تصویروں کو دنیا میں پھیلا کر بھاری تبلیغی فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔تو پھر کیوں نہ مسلمان اولیاء کی تصویروں سے بھی اس قسم کے حالات میں تبلیغی فائدہ اٹھایا جائے۔آج کی دنیا قیافہ شناسی میں بہت ترقی کر چکی ہے اور سمجھدار لوگ بعض اوقات محض ایک بزرگ کی تصویر دیکھ کر ہی اس کی روحانیت کا اندازہ کر لیتے ہیں۔پس دینی اور دنیوی جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے ، فوٹو گرافی ایک نہایت مفید ایجاد ہے۔اور اس سے اپنے آپ کو محروم کرنا مسلمانوں کی قومی اور ملتی طاقت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔وَإِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ امْرِءٍ مَّا نَوى دراصل شریعت کے بنیادی اصولوں پر غور نہیں کیا گیا۔ورنہ اگر تھوڑے سے تامل سے کام لیا جاتا تو یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آسکتی تھی کہ جہاں شریعت نے بعض ایسی چیزوں سے روکا اور انہیں حرام قرار دیا ہے جو اپنی ذات میں نقصان دہ اور ضرر رساں ہیں وہاں مزید احتیاط کے طور پر بعض ایسی باتوں کے متعلق بھی متنبہ کر دیا ہے جو اپنی ذات میں تو ضرررساں نہیں۔مگر کسی دوسری ضرر رساں چیز کو تقویت پہنچانے میں بالواسطہ مدد دیتی ہیں۔مثلاً حدیث سے ثابت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام قرار دی تو ساتھ ہی اس قسم کے برتنوں کا استعمال بھی منع کر دیا جن میں عرب لوگ اس زمانہ میں عموماً شراب پیا کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کے ذہن نہ صرف شراب سے بلکہ اس کے لوازمات سے بھی کلی طور پر کٹ جائیں۔لیکن جب دو چار سال کے بعد آپ نے دیکھا کہ مسلمانوں میں شراب سے کامل ذہنی انقطاع پیدا ہو چکا ہے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ اب بے شک تم ان برتنوں کو استعمال کر لیا کرو۔کیونکہ میری غرض ان برتنوں کو ناجائز قرار دینا نہیں تھی۔بلکہ شراب کی یاد کو تازہ رکھنے والی چیزوں سے تمھارے دل ودماغ کو دور کرنا اصل مقصود تھا۔اور اب چونکہ یہ غرض حاصل ہو چکی ہے تو گوشراب تو بہر حال منع ہی رہے گی کیونکہ اس کی حرمت وو