مضامین بشیر (جلد 2) — Page 321
۳۲۱ ہم لاہور میں کس طرح رہ رہے ہیں؟ رتن باغ اور ملحقہ مکانوں کی آبادی مضامین بشیر لاہور میں مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کی آبادی کا سوال اکثر اُٹھتا رہتا ہے۔اور اس ضمن میں جو مکانات جماعت احمدیہ قادیان نے صدر انجمن احمدیہ کے ذریعہ سے لاہور میں الاٹ کرائے ہیں۔اُن کا سوال بھی بعض اوقات اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہم نے اپنی ضرورت سے زیادہ مکانات الاٹ کروار کھے ہیں۔اس شبہ کے ازالے کے لئے میں نے چند دن ہوئے رتن باغ اور اس کے ملحقہ مکانات کی مردم شماری کرائی تھی۔اس مردم شماری کا نتیجہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اس وقت صدر انجمن کی وساطت سے چار مکانات جماعت کے نام الاٹ شدہ ہیں۔یعنی (۱) رتن باغ (۲) جو د ہامل بلڈنگ (۳) جسونت بلڈنگ اور (۴) سیمنٹ بلڈنگ۔ان عمارتوں میں حضرت خلیفتہ اصیح امام جماعت احمدیہ اور آپ کے خاندان کے علاوہ صدر انجمن احمد یہ کے کارکن اور بہت سے دوسرے احمدی پناہ گزین آباد ہیں۔اور صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر بھی انہیں عمارتوں میں ہیں۔بہر حال مردم شماری کی تفصیل حسب ذیل ہے۔نمبر شمار نام عمارت تعداد خاندان تعداد افراد کیفیت ۳۹۵ ۸۲ ۱۴۱ ۲۲ ۱۳۹ ۲۴ ۸۰۱ ۲۴ ۱۵۲ رتن باغ جود ہامل جسونت بلڈنگ سیمنٹ بلڈنگ میزان (1) (۲) (۳) (N) اوپر کے نقشہ سے ظاہر ہے کہ اس وقت سے جو چار عمارتیں بشمول رتن باغ ہمارے قبضہ میں ہیں اُن میں ۱۵۲ ) ایک سو باون ) خاندان آباد ہیں۔اور کل تعداد ۸۰ ( آٹھ سو ایک ) ہے۔اور یہ خاندان فرضی نہیں بلکہ ایسے خاندان ہیں جو قادیان میں اپنے علیحدہ علیحدہ مکانات اور مستقل انتظام رہائش رکھتے تھے اور ابھی ان اعداد و شمار میں وہ احمدی مہمان شامل نہیں ہیں جو جماعت احمدیہ کے مرکز