مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 301 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 301

٣٠١ مضامین بشیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ حضرت ابراھیم سے اور حضرت ابراھیم کا نام صرف اس مثال کو واضح کرنے اور اس کی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔پس درود کے صحیح معنے یہ ہوئے کہ اے خدا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی وہ خاص برکتیں نازل فرما جو تو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عالی شان نبی کی بعثت کے ذریعہ حضرت ابراہیم پر نازل کیں۔گویا چکر کھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات روحانی کی مثال خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی لوٹ آئی اور کما صلیت علی ابراھیم کے الفاظ میں حضرت ابراہیم کی برتری اور فوقیت کا کوئی سوال نہ رہا۔کیونکہ جیسا کہ میں نے اوپر تشریح کی ہے۔دراصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکتوں کی دعا خود آپ کی اپنی ہی مثال دے کر مانگی گئی ہے اور حضرت ابراہیم کا نام صرف اس مثال کی تشریح کے لئے لایا گیا ہے۔اب دیکھو کہ یہ کیسا مبارک چکر ہے جو درود میں قائم کیا گیا ہے گویا درود کی دعا کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ خدایا ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثل برکات آپ کی ذات تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ ان کا سلسلہ قیامت تک وسیع ہوتا چلا جائے اور آپ کے روحانی اظلال دنیا میں ظاہر ہو ہو کر ہمیشہ آپ کا نور اور روشنی پھیلاتے رہیں۔اب صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ یہ درود کی دعا پوری ہوئی یا نہیں اور اگر پوری ہوئی تو کس رنگ میں پوری ہوئی۔سو اس کا سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ دعا اپنی مکمل شان میں پوری ہوئی بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا کی طرف سے اس بات کا علم دیا گیا تھا کہ ہماری سکھائی ہوئی درود کی دعا اس اس رنگ میں پوری ہوگی۔چنانچہ اس دعا کی عام تجلی تو یہ ہے کہ امت محمدیہ کو با کمال اولیا و اور عدیم المثال علماء کا غیر معمولی ورثہ عطا کیا گیا ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ :۔علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل۔د یعنی میری امت کے روحانی علماء ( جن میں ہر صدی کے مجدد بھی شامل ہیں ) اپنی شان اور روحانی کمالات میں بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے، پس یہ جو امت محمدیہ میں ہزاروں باکمال اولیاء اور ہزاروں خدا رسیدہ علماء گزرے ہیں جو اپنے اپنے زمانہ میں ظاہری علم کے ساتھ ساتھ خدائی کلام سے بھی مشرف ہوتے رہے ہیں اور جن سے سماءِ اسلام کا چپہ چپہ مزین نظر آتا ہے ، یہ سب اسی درود والی مبارک دعا کا کرشمہ ہیں“ مگر اس عام روحانی ورثہ کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک ظلتِ کامل