مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 302 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 302

مضامین بشیر ٣٠٢ ۸۵ اور بروز اتم کا بھی وعدہ تھا۔جس کی بعثت کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ قرار دیا گیا تھا۔جیسا کہ سورہ جمعہ کے الفاظ و اخرین منهم ( یعنی آخری زمانہ میں خدا تعالے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بروز کے ذریعہ دوبارہ معبوث کرے گا ) میں بتایا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے يُدْ فَنُ مَعِى فِی قَبْرِ۔( یعنی آنے والا مصلح اپنی وفات کے بعد اپنے روحانی مقام کے لحاظ سے میرے ساتھ ہی رکھا جائیگا۔) کے الفاظ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔سو یہ وعدہ بھی حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام کے وجود میں پورا ہو گیا۔گویا جس طرح حضرت ابراھیم کی دعا کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اسی طرح كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ کی دعا کی تکمیل کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں تشریف لے آئے۔اور ابھی نہ معلوم قیامت تک آپ کے کن کن اور روحانی اخلال نے آسمانِ ہدایت پر طلوع کر کے درود والی دعا کو پورا کرنا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ على محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔خلاصہ کلام یہ کہ درود میں حضرت ابراھیم کی مثال بیان کرنے سے حضرت ابراھیم کے کسی ذاتی کمال کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں۔بلکہ حضرت ابراھیم کی اس دعا کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود ظہور میں آیا اور غرض یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابرا ہیم کی دعا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بابرکت وجود پیدا ہوا۔اسی طرح اب اے خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ کے روحانی اظلال کا سلسلہ بھی تا قیامت جاری رہے۔اور اس ذریعہ سے ایک ایسا مقدس دور قائم ہو جائے جو تیرے آخری نور کے ذریعہ دنیا میں ہمیشہ اجالا رکھے۔اس نکتہ کے حل ہونے کے بعد میری روح کما صلیت علی ابراھیم کے الفاظ پر رُکنے اور جھٹکا کھانے کی بجائے ایک خاص قسم کے روحانی سرور اور ایک خاص قسم کی روحانی لذت کی حالت میں تسبیح کرتی ہوئی آگے نکل جاتی ہے۔اور ان چمکتے ہوئے آسمانی ستاروں اور اس درخشاں ظلمی شمس و قمر کا نظارہ کرنے میں جن سے آج فضاء اسلام مزین ہے۔ایک ایسا لطف محسوس کرتی ہے جو اس سے پہلے کبھی میسر نہیں آیا تھا۔اللهم صل على محمد كما صليت على ابراهيم وبارک وسلم۔اللهم صل على محمد كما صليت على ابراهيم وبارک وسلم اللهم صل على محمد كما صليت على ابراهيم وبارک وسلم۔وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين۔( مطبوعہ الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۴۸ء )