مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 249 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 249

۲۴۹ مضامین بشیر و با مراد ہو سکو۔“ بالآخر یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ خطرہ کا احساس خود اپنی ذات میں برانہیں بلکہ قومی بیداری اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔بڑی بات یہ ہے کہ اس احساس کی وجہ سے گھبراہٹ یا خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو۔ورنہ خود احساس تو دراصل ایک بھاری معنوی قوت ہے۔جس کے ذریعے قوموں کو ہوشیار اور منتظم کیا جا سکتا ہے۔جس قوم کو اپنے اردگرد کے امکانی خطرات کا احساس نہیں ، وہ قوم مردہ ہے۔اسی طرح وہ قوم بھی مردہ ہے جسے امکانی خطرات کا احساس تو ہے مگر اس احساس کے نتیجہ میں وہ خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر سراسیمہ ہونے لگتی ہے۔یہ دونوں حالتیں یقیناً موت کی حالتیں ہیں اور زندگی کی حالت یہ ہے کہ احساس ہو۔مگر احساس کا نتیجہ بیداری اور تنظیم اور تیاری کی صورت میں ظاہر ہو۔پس ہمیں پاکستان کے مسلمانوں سے عرض کرنا ہو گا کہ جس جس جگہ بھی اس خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔وہ اس کیفیت کا پورے زور کے ساتھ مقابلہ کریں مگر اس مقابلہ کے نتیجہ میں لوگوں کو تھپک کر سلا نہ دیں بلکہ اگر اس احساس نے سوتے ہوؤں کو جگایا ہے تو وہ جاگتے ہوؤں کو زیادہ چوکس و ہوشیار کر کے منتظم اور تیار کر دیں۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہو اور ان کا حافظ و ناصر رہے۔آمین۔( مطبوعہ الفضل اارجون ۱۹۴۸ء)