مضامین بشیر (جلد 2) — Page 250
مضامین بشیر ۲۵۰ نئی وزارت کو ایک مخلصانہ مشورہ حکومت ایک مقدس امانت ہے اس امانت کی ادائیگی میں عدل پر قائم رہو۔عدل کے مثبت اور منفی پہلو دنیا میں جس طرح ہر چیز کے ساتھ تغیر لگا ہوا ہے۔اسی طرح حکومتیں اور وزارتیں بھی بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں اور ہر ایسا تغیر اپنے اندر ایک دو ہر اسبق رکھتا ہے۔وہ سبق ہوتا ہے جانے والی وزارت کے لئے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز نا پائیدار ہے جب تک کہ اس کے ساتھ خدا کے ازلی اور ابدی وجود کا سہارا نہ ہو۔اور وہ سبق ہوتا ہے آنے والی وزارت کے لئے اور اپنے اندر یہ اشارہ رکھتا ہے کہ اب تمہارے امتحان کا وقت آیا ہے۔پس اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کر و جو تمہاری حکومت کے سایہ کو زیادہ سے زیادہ لمبا کر سکیں۔چنانچہ قرآن شریف ایک جگہ نئی طاقت پانے والی قوم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلَفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ۴۱ یعنی اب ہم نے تمہیں تم سے پہلے گزرنے والی قوم کا قائمقام بنایا ہے تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کس قسم کے اعمال بجالاتے ہو اس لطیف قرآنی آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہر حکومت اور ہر طاقت اپنے ساتھ دو پہلو رکھتی ہے۔ایک انعام کا پہلو جسے انگریزی میں Privilige کہتے ہیں اور دوسرے ذمہ داری کا پہلو جسے انگریزی میں Responsibility کہتے ہیں کیونکہ جَعَلْنَكُمْ خَليفَ میں (یعنی ہم نے تمہیں گزرنے والی قوم کا قائمقام بنایا ) انعام (Privilige) کے پہلو کی طرف اشارہ ہے اور لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ میں یعنی تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کس قسم کے اعمال بجالاتے ہو ) ذمہ داری (Responsibility) کے پہلو کی طرف اشارہ ہے مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ انعام والے پہلو کے خمار میں دوسرے پہلو کو بھول جاتے ہیں۔حالانکہ اصل چیز وہ ذمہ داری ہے جو ہر اس فرد اور