مضامین بشیر (جلد 2) — Page 248
مضامین بشیر ۲۴۸ اپنے ساتھ ملانا چاہتا ہے مگر زیادہ تر اس وجہ سے اس ملاپ کا خواہاں ہے کہ یہی وہ سب سے بڑا ذریعہ ہے ، جس سے وہ پاکستان کو کمزور کر کے اس کی ہستی کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے اور گولڑائی آزاد کشمیر اور ہندوستان کے درمیان ہے۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ اگر یہ جنگ زیادہ پھیلے تو پاکستان کی حدود پر اس کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔اور اس قسم کے موقعوں پر جب کہ سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع ہو جائے تو آگ بھڑک اٹھنے کا امکان ضرور ہو جاتا ہے۔لیکن چونکہ اس وقت بظاہر دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کرنے کو تیار نہیں اور حتی الوسع اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔اس لئے گمان غالب یہ ہے کہ اگر سرحدوں پر کوئی چھیڑ چھاڑ شروع بھی ہوئی تو دونوں حکومتیں اسے روکنے اور محمد ود ر کھنے کی کوشش کریں گی۔خلاصہ کلام یہ کہ اگر اس وقت کسی حد تک خطرہ ہے بھی تو اس کی روک تھام کا سامان بھی ایک حد تک موجود ہے۔لہذا گھبرانے اور سراسیمہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔لیکن اصولاً اس میں شبہ نہیں کہ ہر آزاد ملک کو اپنی خود حفاظتی کا پختہ سامان مہیا رکھنا چاہئے۔مگر یہ خیال کرنا کہ یہ سامان مہیا کر نا صرف حکومت کا کام ہے ہرگز درست نہیں۔اصل چیز پبلک ذہنیت ہے اور اس کی درستی اور تنظیم زیادہ تر خود پبلک کے ہاتھ میں ہے۔پس مسلمانوں کو چاہئے کہ گھبرانے کی بجائے اپنے دلوں کو مضبوط کریں اور ایک وسیع پبلک تنظیم کے ذریعہ ہر قسم کے امکانی خطرہ کے لئے تیار رہیں۔ایسی تیاری خصوصاً سرحدی اضلاع میں زیادہ ضروری ہے۔اور مغربی پنجاب کے اضلاع میں سے راولپنڈی۔جہلم۔گجرات۔سیالکوٹ۔لاہور اور منگمری سرحدی اضلاع ہیں ان تمام ضلعوں کی پبلک کو ایک وسیع اور پختہ تنظیم کے ذریعہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اس لئے نہیں کہ اس وقت ان کے لئے کوئی خطرہ ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے لئے اصولاً ہر وقت خطرہ ہو سکتا ہے۔ہمارے پاک قرآن نے بھی جو ایک مکمل ہدایت نامہ ہے سرحدوں کی مضبوطی کے لئے تا کیدی ہدایت دی ہے چنانچہ فرماتا ہے :- يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا * وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ ۴۰ تُفْلِحُونَ۔د یعنی اے مسلمانو! تم اپنے سب کاموں میں صبر و استقلال کو اپنا شعار بناؤ۔اور نہ صرف خود صبر واستقلال پر قائم رہو۔بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی صبر و استقلال کی تعلیم دو( تا کہ نہ صرف تم خود منظم ہو۔بلکہ اپنے ماحول کو بھی منتظم کر لو ) اور دیکھو اپنی سرحدوں کو خوب مضبوط رکھو۔مگر ان ظاہری سامانوں کے با وجود تمہیں چاہئے کہ اپنی حقیقی ڈھال صرف خدا کو بناؤ تا کہ تم اپنے مقاصد میں کا میاب