مضامین بشیر (جلد 2) — Page 247
۲۴۷ مضامین بشیر مونٹ بیٹن اب ہندوستانی حکومت کے ماتحت ایک آئینی گورنر جنرل ہیں۔پس خواہ وہ رہیں یا جائیں ہندوستان میں حکومت ہندوستانیوں کی ہے اور لارڈ مونٹ بیٹن کو کسی فتنہ کے دبانے یا اٹھانے میں ہرگز اتنا دخل حاصل نہیں کہ ان کے ہندوستان سے چلے جانے کوگھبراہٹ کی بنیاد بنایا جائے بلکہ حق یہ ہے کہ جو ہند و جنٹلمین مسٹر را جا گوپال اچاریہ لارڈ مونٹ بیٹن کی جگہ گورنر جنرل کا چارج لینے والے ہیں۔ان کے متعلق اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ بین الاقوام اور بین الدول تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے زیادہ کوشش کر سکیں گے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے تقرر پر خود قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح نے اپنے مبارکباد کے پیغام میں ان کے متعلق بہت اچھی تو قعات کا اظہار کیا تھا۔دوسری امکانی وجہ یہ سمجھی جاسکتی ہے کہ اب وہ وقت آ رہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان برٹش ایمپائر کے تعلق سے آزاد ہونے کا اختیار استعمال کر سکیں۔اور یہ کہ یہ اختیار استعمال کیا گیا تو جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔اول تو جہاں تک حقیقی آزادی کا تعلق ہے، برٹش ایمپائر کا ایک جزو ہونا یا نہ ہونا کوئی اثر نہیں رکھتا۔ایک ڈومینین بھی عملاً اسی طرح آزاد ہے جس طرح ایک ایسا ملک جو برٹش ایمپائر سے ڈومینین ہونے کا تعلق نہیں رکھتا۔اور اگر ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا چاہیں تو وہ ڈومینین ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دست بگریبان ہو سکتے ہیں۔اور برٹش حکومت کو اس معاملہ میں ایک رسمی سی ” ہوں ہوں“ کرنے کے سوا کوئی طاقت حاصل نہیں۔پس لڑائی کو ڈومینین ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔علاوہ ازیں یہ ایک حقیقت ہے اور اکثر مبصرین کا یہی خیال ہے کہ خواہ منہ سے کچھ کہا جائے۔لیکن غالبا ابھی کچھ عرصہ تک اور شاید ایک لمبے عرصہ تک ہندوستان اور پاکستان دونوں برٹش ایمپائر کا حصہ رہنے کو ترجیح دیں گے۔کیونکہ اس تعلق کو کاٹنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں اور تعلق کو قائم رکھنے کا کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہے۔اور پھر یہ بھی ہے کہ جب ہر حکومت کو اختیار ہے کہ جب چاہے اس تعلق کو کاٹ دے تو بلا وجہ اس کے لئے جلدی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی جاسکتی۔تیسرا سوال کشمیر کا ہے۔یہ سوال بے شک اہم اور قابل فکر ہے۔پاکستان کے مسلمان سمجھتے ہیں کہ کشمیر اپنی آبادی کی اکثریت اور اپنی جغرافیائی پوزیشن کے لحاظ سے پاکستان کا حصہ بننے کا حق رکھتا ہے اور ہر پاکستانی مسلمان کو اس کے ساتھ طبعا اور فطرتاً ہمدردی ہے۔اور وہ اس بات کو کسی صورت میں پسند نہیں کرتا کہ پاکستان کے ساتھ ملنے کی بجائے کشمیر کی ریاست ہندوستان کے ساتھ مل جائے۔اور وہ اس بات کا بھی یقین رکھتا ہے کہ کشمیر کے مسلمان طبعا اور اپنے سابقہ تجربہ کے نتیجہ میں پاکستان کے ساتھ ملنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اس کے مقابل پر ہندوستان کشمیر کی ہند و حکومت کی وجہ سے کشمیر کو