مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 246 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 246

مضامین بشیر ۲۴۶ ہے اور قومی اخلاق اور قومی روح کی بنیاد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس قسم کے حالات میں امکانی طور پر دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا تو یہ کہ کوئی حقیقی خطرہ موجود نہ ہو اور محض وہم کے نتیجہ میں خطرہ کا تصور پیدا کر لیا جائے اور دوسرے یہ کہ واقعی خطرہ موجود ہو یا اس کے وجود میں آنے کا قوی امکان ہو۔اب ظاہر ہے کہ ان دونوں صورتوں میں خوف و ہر اس کی کیفیت قومی اخلاق کی بلندی اور قومی روح کی مضبوطی کے لئے تباہ کن ہے۔اگر تو خطرہ کوئی نہیں تو کسی موہوم بنا ء پر خطرہ کا تصور پیدا کر لینا تو ہم پرستی کے سوا کچھ نہیں۔جس کے نتیجہ میں انسان کا دل اسی طرح کا نپنا شروع ہو جاتا ہے جس طرح کہ اندھیرے میں بعض لوگوں کا دل فرضی خطروں کے تصور سے کانپا کرتا ہے۔اور جب وہم کا دروازہ ایک دفعہ کھل جائے تو پھر اس کے بند ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔اور ایک پتے کے کھڑ کنے پر بھی دل دھڑ کنے شروع ہو جاتے ہیں کہ معلوم نہیں کیا مصیبت آنے والی ہے اور اس طرح انسان کا عصبی نظام آہستہ آہستہ کمزور ہو کر مستقل مزاجی اور وقار اور شجاعت کے اوصاف کھو بیٹھتا ہے۔اس کے مقابل پر اگر واقعی کوئی خطرہ موجود ہو تو پھر بھی خوف و ہراس کی کیفیت مہلک اور تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ خوف و ہراس کی وجہ سے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔اور گھبراہٹ کی وجہ سے انسان خطرہ کے مقابلہ کی تیاری کی طرف سے عملاً غافل ہو جاتا ہے۔اور اکثر صورتوں میں دل چھوڑ کر گویا اپنی اہل تقدیر کے انتظار میں گھلنا شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ ظاہر ہے اگر واقعی کوئی خطرہ ہو تو اس کا فطری اور صحیح رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ انسان اس خطرہ کے مقابلہ کے لئے تیاری کرے تاکہ قبل اس کے کہ خطرہ کا موقع عملاً پیش آئے ، وہ اپنی طاقت اور اپنے ذرائع کے مطابق اس کے مقابلہ کے لئے تیار ہو چکا ہو۔پس جس جہت سے بھی دیکھا جائے موجودہ خوف و ہراس کی حالت جو ملک کے بعض حصوں میں پائی جاتی ہے، کسی طرح جائز نہیں سمجھی جاسکتی بلکہ یہ ایک ایسا کلہاڑا ہے جو خود اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں پر چلایا جا رہا ہے۔خوب غور کرو کہ اگر خطرہ کوئی نہیں تو موجودہ خوف و ہراس محض وہم ہے اور وہم پرستی سے بڑھ کر قومی اخلاق کو بگاڑنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی اور اگر خطرہ حقیقی ہے تو ظاہر ہے کہ گھبرانے اور سراسیمہ ہونے کی بجائے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اس خطرہ کے مقابلہ کے لئے جہاں تک ممکن ہو تیاری کریں۔اور خطرہ کا وقت آنے سے پہلے اپنے آپ کو منتظم اور مضبوط کر لیں۔اب رہا یہ سوال کہ کوئی حقیقی خطرہ موجود ہے یا نہیں۔سو جہاں تک لارڈ مونٹ بیٹن کے جانے یا رہنے کا سوال ہے۔یہ ایک بالکل بے اثر سی بات ہے۔ہندوستان اب آزاد ہو چکا ہے اور لارڈ