مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 245 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 245

۲۴۵ مضامین بشیر خوف و ہراس کی کیفیت قومی اخلاق کے لئے تباہ کن ہے مگر خطرہ کے وقت خطرہ کا احساس بھی قومی مضبوطی کے لئے ضروری ہے ۱۵رجون والے مزعومہ خطرہ کے متعلق ایک مختصر نوٹ مغربی پنجاب کے بعض حصوں سے یہ اطلاع آ رہی ہے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے کہ شائد ۱۵ جون کے بعد پھر فسادات کا سلسلہ شروع ہو جائے اور لوگوں کو اسی قسم کے خونی نظاروں کا سامنا کرنا پڑے جو گزشتہ فسادات میں دیکھنے میں آئے تھے۔اس خوف و ہراس کی مختلف وجوہات ہیں۔مثلا یہ کہ جون میں لارڈ مونٹ بیٹن گورنر جنرل انڈیا واپس چلے جائیں گے۔اور ان کی جگہ ایک ہندوستانی جنٹلمین گورنر جنرل مقرر ہوں گے یا کہ اب وہ وقت آ رہا ہے کہ جب ہندوستان اور پاکستان دونوں اس بات کے لئے آزاد ہوں گے کہ برٹش ایمپائر کے ساتھ اپنا تعلق قطع کر کے کامل خود مختاری کا اعلان کر دیں۔یا یہ کہ کہیں کشمیر کی جنگ کی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی مزید پیچیدگی پیدا ہو کر فسادات کا موجب نہ بن جائے۔وغیرہ وغیرہ اس قسم کے خیالات نے مغربی پنجاب اور مشرقی پنجاب دونوں میں بعض لوگوں کے دلوں میں تو ہمات اور خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔بلکہ اخبار سٹیٹسمین میں تو یہاں تک خبر تھی کہ اس قسم کا خوف و ہراس ( جسے انگریزی میں panic کہتے ہیں ) مشرقی پنجاب سے گزرکر دہلی تک بھی پہنچ چکا ہے۔سو یہ ایک عام قسم کی وباء ہے جو دونوں حکومتوں میں یکساں سرایت کئے ہوئے ہے۔بلکہ سنا ہے کہ بعض لوگوں نے اپنا کاروبار چھوڑ کر عارضی طور پر سرحدی ضلعوں سے نقل مکانی بھی شروع کر دی ہے۔یہ ایک خطر ناک حالت ہے جس کا فوری طور پر انسداد ہونا چاہئے۔یہ درست ہے کہ گزشتہ فسادات نے لوگوں کے اعصاب پر بھاری اثر ڈالا ہے۔اور خطرہ کی ذراسی خبر سے گھبرا کر سراسیمہ ہونے لگتے ہیں۔لیکن ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ اعصابی اضطراب خطرہ کو کم نہیں کرتا۔بلکہ بڑھاتا