مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 229 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 229

۲۲۹ مضامین بشیر قادیان چھوڑ نے کے متعلق میری ایک دس سال قبل کی تحریر اور اس پر حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تفصیلی نوٹ جب کبھی بھی لوگوں کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی پورا ہونے والا الہام پیش کیا جاتا ہے تو ان میں سے ضدی طبقہ عموماً یہ کہہ کر اپنا پیچھا چھڑانا چاہتا ہے کہ یہ الہام تم نے بعد میں بنالیا ہے۔یا کم از کم یہ کہ جو تشریح تم اس الہام کی اب کر رہے ہو یہ بعد کا خیال ہے۔حالانکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پہلے سے چھپے ہوئے ہیں تو بعد میں بنا لینے کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔اور تشریح خواہ بعد میں ہی کی جائے۔اگر کوئی تشریح کسی الہام کے الفاظ پر واقعی چسپاں ہوتی ہو تو خواہ اس کا بعد میں ہی خیال آئے۔وہ ہر عقل مند انسان کے نزدیک قابل قبول ہونی چاہئے۔لیکن ذیل میں ایک ایسی تحریر پیش کی جاتی ہے جو آج سے دس سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے اور اس تحریر میں یہ صاف طور پر مذکور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے پتہ لگتا ہے کہ جماعت احمد یہ کو ایک زمانہ میں اپنے مرکز سے عارضی طور پر نکلنا پڑے گا۔یہ تحریر میرے ایک خط کی صورت میں ہے۔جو میں نے ۲۶ اپریل ۱۹۳۸ء کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا۔اور حضور نے اس پر ایک تفصیلی نوٹ درج کر کے مجھے واپس بھجوایا اور پھر میں نے اسے ۲۲ مئی ۱۹۳۸ء کو ناظر اعلیٰ (چیف سیکرٹری ) جماعت احمدیہ کے دفتر میں بغرض تعمیل بھجوا دیا۔یہ تحریر بعد زمانہ کی وجہ سے میرے ذہن سے بالکل اتر چکی تھی۔حتی کہ آج اچانک صدر انجمن احمد یہ کے ایک کارکن نے اسے پرانے ریکارڈ سے نکال کر میرے سامنے پیش کیا۔میری اس تحریر میں جو ۲۶ اپریل ۱۹۳۸ ء کی لکھی ہوئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مجموعہ الہامات تذکرہ پر مبنی ہے۔یہ بات صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ حضرت مسیح موعود ر