مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 230 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 230

مضامین بشیر۔۲۳۰ علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں سے پتہ لگتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو کسی وقت اپنا مقدس مرکز چھوڑ نا ہو گا اور یہ صورت حال گورنمنٹ کی طرف سے پیدا کی جائے گی اور اس پر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ نوٹ درج ہے کہ مجھے تو میں سال سے اس طرف خیال لگا ہوا ہے۔ایک عجیب بات یہ ہے کہ میری تحریر میں یہ بات بھی درج ہے کہ مرکز سے جماعت کا نکلنا حکومت کے کسی فعل کا نتیجہ ہوگا۔اور بعینہ اس کے مطابق وقوع میں آیا کہ پہلے حکومت برطانیہ نے سراسر ظلم اور بے انصافی کے رنگ میں ضلع گورداسپور کو جو ایک مسلم اکثریت کا ضلع تھا ، مشرقی پنجاب میں ڈال دیا۔اور پھر اس کے بعد مشرقی پنجاب کے افسروں نے جماعت احمدیہ کو قادیان سے نکلنے پر مجبور کیا۔گویا سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتیں اس ظلم کی ذمہ دار بن گئیں۔بہر حال میرا آج سے دس سال پہلے کا خط اور اس پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نوٹ ذیل میں شائع کیا جاتا ہے۔تا احمدیوں کے لئے از دیا دایمان اور غیر احمدیوں کے لئے اتمام حجت کا موجب ہو۔ہر دو تحریر میں اپنی اصل صورت میں محفوظ ہیں۔اور جو دوست چاہیں اسے دفتر صدرانجمن احمد یہ میں تشریف لا کر دیکھ سکتے ہیں۔یہ تحریر میں جس لفافہ میں بند کر کے ناظر اعلے کو بھجوائی گئیں وہ لفافہ بھی محفوظ ہے اور اس لفافہ پر بھی تاریخ اور دفتری نمبر با قاعدہ درج ہیں :- میرے اس خط پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کا نوٹ عزیزم مکرم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں تو ہمیں سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں۔حق یہ ہے کہ جماعت اب تک اپنی پوزیشن کو نہیں سمجھی ، ابھی ایک ماہ ہوا میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ مسجد اقصیٰ وغیرہ کے لئے گہرے زمین دوز نشان لگائے جائیں جن سے دوبارہ مسجد تعمیر ہو سکے۔اسی طرح چاروں کونوں پر دور دور مقامات پر مستقل زمین دوز نشانات رکھے جائیں جن کا راز مختلف ممالک میں محفوظ کر دیا جائے تا کہ اگر ان مقامات پر دشمن حملہ کرے تو ان کو از سر نو اپنی اصل جگہ پر تعمیر کیا جاسکے۔پاسپورٹوں کا سوال بھی اسی پر مبنی تھا۔( دستخط ) مرزا محمود احمد (علیه استی) نوٹ :۔اس کے بعد یہ خط اور اس پر حضرت صاحب والا نوٹ ناظر صاحب اعلیٰ