مضامین بشیر (جلد 2) — Page 228
مضامین بشیر میں گر سکتا ہے۔۲۲۸ میں کہہ چکا ہوں کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مغربی پنجاب میں کوئی ظلم نہیں ہوا۔میں جانتا ہوں اور دیکھنے والے مجھے بتاتے ہیں کہ مغربی پنجاب میں قتل و غارت بھی ہوا ، لوٹ مار بھی ہوئی ، اغوا کی وارداتیں بھی وقوع میں آئیں اور بعض دوسرے مظالم بھی ہوئے۔ان چیزوں کا انکار کرنا صداقت کی طرف سے آنکھیں بند کرنا ہے۔یہ مظالم خواہ دوسرے فریق کے جواب میں تھے یا وقتی فرقہ وارانہ جوش کا ابال تھے ، بہر حال مغربی پنجاب میں مظالم کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔مگر ان مظالم کو ان مظالم سے کوئی نسبت نہیں جو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے خلاف روا رکھے گئے۔ابتداء کے لحاظ سے دیکھو، جواب میں حد سے تجاوز کرنے کے لحاظ سے دیکھو، سازش کے پہلو کے لحاظ سے دیکھو، حکام کی جانبدارانہ شرکت کو دیکھو۔مظالم کی نوعیت اور درجہ کو دیکھو اور عبادتگاہوں کی بیحرمتی کو دیکھو۔ان سب باتوں کا جواب ایک ہے اور صرف ایک۔لیکن غالبا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہمارے برادران وطن گزشتہ ایام کی کارروائیوں کو ٹھنڈے دل سے سوچ سکیں یا انصاف کی نظر سے دیکھ سکیں۔مگر کم از کم ہمیں ان مسلمہ اصولوں کو تو نہیں بھولنا چاہیئے جو اس قسم کے فسادات میں ذمہ داری کی صحیح تعیین میں مدد دے سکتے ہیں۔صداقت کی زمین ہر وقت تیار رہنی چاہئے۔خواہ بیج بونے کا وقت بعد میں آئے۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين ( مطبوعه الفضل ۱۶ رمئی ۱۹۴۸ء)