مضامین بشیر (جلد 2) — Page 211
۲۱۱ مضامین بشیر پرانے مفسر بھی ابلیس کے مغویا نہ وجود کو ایک حادثہ تسلیم کرتے ہیں مگر یا در ہے کہ حادثہ سے میری مراد موٹر وغیرہ والا حادثہ نہیں بلکہ ایسی صفت مراد ہے جو کسی چیز کے ساتھ فطری طور پر لازم و ملزوم نہیں ہوتی ، بلکہ بعد میں پیدا ہوتی ہے ) مگر یہ خیال درست نہیں کہ ابلیس ایک گمراہ شدہ فرشتہ ہے۔کیونکہ فرشتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں صاف فرماتا ہے کہ لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُونَTO یعنی فرشتے خدا کی نافرمانی نہیں کرتے اور انہیں جس بات کا حکم دیا " جاتا ہے وہی بجا لاتے ہیں پس یہ خیال کہ ابلیس ایک فرشتہ تھا جو نا فرمانی کر کے شیطان بن گیا۔قرآنی تعلیم کے صریح خلاف ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ابلیس تھا کون؟ اس کا جواب خود قرآن شریف دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے : وَالْجَانَ خَلَقْنَهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۳۲ ,, د یعنی ہم نے جنوں کو انسان کی پیدائش سے پہلے لو والی آگ سے پیدا کیا تھا اور دوسری جگہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ ر ته د یعنی ابلیس جنوں میں سے ایک وجود تھا۔جس نے خدا کی نافرمانی اختیار کی۔“ اور ایک تیسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ قَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينِ یعنی ہم نے جن وانس دونوں کو صرف اپنی عبادت کی غرض سے پیدا کیا ہے۔“ اور چوتھی جگہ خدا تعالیٰ ابلیس کی زبانی یہ بیان فرماتا ہے کہ یعنی اے خدا میں نے آدم کو اس لئے سجدہ نہیں کیا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے۔اور آدم کو مٹی سے۔“ اور پانچویں جگہ قرآن شریف فرماتا ہے قَالَ رَبِّ فَانْظُرْنِى إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ إلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ یعنی جب ابلیس خدا کی نافرمانی کر کے اس بات سے ڈرا کہ اب مجھے خدا فورا ہلاک کر دے گا۔تو اس نے خدا سے کہا کہ اے رب مجھے انسانوں کے یوم بعث تک مہلت عطا کر۔خدا نے کہا تجھے وقت معلوم تک مہلت دی جائے گی۔“ اُوپر کے حوالوں سے ذیل کی پانچ باتوں کا ثبوت ملتا ہے :- (۱) یہ کہ خدا نے جنوں کو انسان سے پہلے پیدا کیا تھا۔(۲) یہ کہ ابلیس بھی جنوں کی قسم میں سے ایک مخفی قسم کی مخلوق ہے (۳) یہ کہ ابلیس حقیقہ خدا کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔کیونکہ سب جن وانس خدا کی عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔مگر چونکہ وہ بخلاف ملائک صاحب اختیا ر تھا۔اس لئے اس نے بُرے انسانوں کی طرح خود نا فرمانی کے رستہ پر پڑ کرفستق اختیار کیا۔