مضامین بشیر (جلد 2) — Page 210
مضامین بشیر ۲۱۰ کمرہ سے بڑھتا چلا جائے گا۔اسی نسبت سے کمرہ کی تاریکی زیادہ گہری ہوتی چلی جائے گی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ یعنی خدا تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا نور ہے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ جتنی جتنی کوئی چیز منبع نور یعنی خدا سے قریب ہو گی۔اتنی ہی وہ زیادہ روشن اور نیک ہوتی چلی جائے گی اور جتنی کوئی چیز خدا سے دور ہوگی۔اتنی ہی وہ زیادہ تاریک اور بد ہوتی چلی جائے گی۔پس خدا کا نیکی اور بدی کو نور اور ظلمت سے تشبیہ دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقتاً بدی کے لئے کسی خارجی محرک کی ضرورت نہیں ، بلکہ انسان کا صاحب اختیار ہونا ہی بدی کے معرض وجو د میں آنے کے لئے کافی ہے۔جتنا جتنا کوئی شخص اپنے فطری اختیار کے ماتحت نیکی کے رستہ سے دور ہو گا اتنا ہی وہ بدی میں مبتلا سمجھا جائے گا۔اس کی ایک واضح مثال مغوی انسانوں کے حالات میں ملتی ہے۔جو ہر نبی کے زمانہ میں ہوتے رہے ہیں حضرت ابراہیم کے زمانہ میں نمرود ایک مغوی وجود تھا اور حضرت موسیٰ کے زمانہ میں فرعون ایک مغوی وجو د تھا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابو جہل ایک مغوی وجو د تھا۔بے شک ان مغوی انسانوں کے ذریعہ سے بہت سے لوگوں کو ٹھوکر لگی۔مگر کون کہ سکتا ہے کہ اگر یہ مغوی انسان نہ ہوتے تو ان نبیوں کے زمانہ میں کوئی شخص بھی گمراہی کا طریق اختیار نہ کرتا۔گمراہ ہونے والوں نے اپنے صاحب اختیار ہونے کے نتیجہ میں گمراہی اختیار کی۔مگر یہ درست ہے کہ ان مغوی وجودوں سے لوگوں کی گمراہی کو مزید تقویت حاصل ہو گئی۔اسی طرح اگر ابلیس نہ ہوتا تو پھر بھی گمراہ ہونے والے انسانوں نے گمراہ ہونا تھا۔مگر ابلیس کا وجود گمراہی کو مزید تقویت دینے کا موجب بن گیا۔اور ظاہر ہے کہ یہ ابلیسی تقویت دونوں طریق پر اثر انداز ہو رہی ہے یعنی شدت (Quality) کے لحاظ سے بھی اور وسعت (Quantity) کے لحاظ سے بھی۔ابلیس کے وجود نے گمراہی کے دائرہ کو بھی وسیع کر دیا ہے اور اس کی شدت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ٹھیک اسی طرح جس طرح حضرت موسیٰ کے زمانہ میں فرعون نے گمراہی کی شدت اور وسعت دونوں کو بڑھا دیا تھا۔ہاں انسانی مغوی وجودوں اور ابلیس میں یہ فرق ضرور ہے کہ انسان کی طاقت اور زمانہ محدود ہے اور وہ اپنی چند سالہ عمر گزار کر ہلاک ہو جاتا ہے مگر ابلیس ایک غیر انسانی وجود ہے۔جس کی میعاد اور جس کا دائرہ عمل انسانوں کی نسبت بہت زیادہ وسیع ہے۔یہی وجہ ہے کہ ابلیس کا مغویا نہ وجود حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں پیدا ہوا اور اب تک چلا جا رہا ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ ابلیس کون ہے۔ہمارے پرانے مفسر تو لکھتے ہیں کہ وہ ایک فرشتہ تھا۔جس کا نام عزازیل تھا جو نافرمانی کے نتیجہ میں شیطانی وجود کی صورت اختیار کر گیا ( ملاحظہ ہو کہ کم از کم