مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 212 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 212

مضامین بشیر ۲۱۲ (۴) یہ کہ بخلاف انسان کے جو طینی صفات کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، ابلیس آتشی صفات کے ساتھ پیدا کیا گیا تھا۔(۵) یہ کہ گو ابلیس آدم کے معاملہ میں خدا کی نافرمانی کا رستہ اختیار کر کے اس بات کے متعلق خائف ہوا کہ خدا تعالیٰ اسے اپنی ناراضگی میں ہلاک نہ کر دے مگر اس کی درخواست پر اسے خدا کی طرف سے مہلت دی گئی۔یہ پانچ نتیجے جو اوپر کے حوالوں سے یقینی طور پر ثابت ہیں۔ابلیس کو انسان اور ملائکہ دونوں سے ممتاز اور متغائر ثابت کرتے ہیں۔یہ سوال کہ جن سے کیا مراد ہے ایک لمبا جواب چاہتا ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔مختصر یہ ہے کہ قرآن شریف اور حدیث اور لغت عرب کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ جن کے بنیادی معنی مخفی یا پوشیدہ مخلوق کے ہیں خواہ یہ چیز یا مخلوق طبعی طور پر پوشیدہ ہو یا کہ محض عادۃ پوشیدہ رہتی ہو۔پس عربی زبان اور اسلامی محاورہ کے مطابق جن کے مندرجہ ذیل معنی سمجھے جائیں گے :- (۱) ایسے بڑے لوگ جو اپنی بڑائی کے خیال سے عوام الناس کے ساتھ زیادہ اختلاط نہیں رکھتے اور گویا ان کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں جیسا کہ گزشتہ زمانوں میں بادشاہوں اور رئیسوں کا طریق ہوتا تھا۔(۲) بیماریوں کے جراثیم اور باریک کیڑے جو عموماً نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔(۳) ایسے جانور جو بلوں اور غاروں وغیرہ میں چھپ کر زندگی گزارتے ہیں۔(۴) خدا کی ایک ایسی مخفی مخلوق جو عموماً انسان کو نظر نہیں آتی۔اس تشریح کے ماتحت جاننا چاہئے کہ جب ابلیس کو قرآن شریف نے جن کے لفظ سے یاد کیا ہے تو اس سے یہ چوتھی قسم کی مخفی مخلوق مراد ہے۔اور گو ہم ابلیس کی باریک کنہہ سے واقف نہ ہوں مگر جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے قرآن شریف سے اس قدر ضرور پتہ چلتا ہے کہ یہ مخفی قسم کی مخلوق انسان کی پیدائش سے پہلے ایک آتشی قسم کے مادہ سے پیدا کی گئی تھی اور اسی لئے جلدی بھڑک اٹھنا اور اپنے اندر آگ کی سی تیزی اور گرمی پیدا کر لینا اس کی فطرت کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا لفظ آتے ہی ابلیس فورا سیخ پا گیا اور اس نے اپنی اس دشمنی کی آگ کو اس قدر بھڑ کا یا کہ آدم سے گزر کر اس کی نسل تک کو اپنی دائمی دشمنی کا عہد باندھ لیا۔اس جگہ یہ یمنی ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ جن کے لغوی معنوں کے لحاظ سے فرشتے بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔کیونکہ وہ بھی ایک قسم کی مخفی مخلوق ہیں مگر اصطلاحی لحاظ سے ان کا دائرہ جدا گانہ ہے یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین کو یہ غلطی لگی ہے کہ انھوں نے ابلیس کو ایک گمراہ شدہ فرشتہ قرار