مضامین بشیر (جلد 2) — Page 200
مضامین بشیر ۲۰۰ ایمان لاتا ہے۔اور اخروی زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔مگر ابتدائی حیوانی زندگی کی طرح اس کی نظر صرف اپنے نفس یا زیادہ سے زیادہ اپنے اہل و عیال کی روحانی بہبود تک محدود رہتی ہے۔اور (۴) اعلیٰ روحانی زندگی جس میں میدان بھی روحانی ہوتا ہے اور نظر بھی وسیع ترین ہوتی ہے اور انسان نہ صرف خود اعلیٰ روحانیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس میدان میں کھینچ لانے کی جدو جہد کرتا ہوا خدا کا مجاہد سپاہی بن جاتا ہے۔اب اے ہمارے عزیز و اور دوستو! آپ میں سے ہر شخص اپنے نفس میں غور کرے کہ اس کی زندگی اوپر کی چار اقسام کی زندگیوں میں سے کس قسم میں داخل ہے۔آیا وہ ابھی تک صرف ایک اچھی قسم کا حیوان ہے یا کہ مادیت کے زہر آلود میدان میں سے نکل کر روحانیت کے میدان میں داخل ہو چکا ہے، اور اگر داخل ہو چکا ہے تو آیا وہ ایک محض ابتدائی قسم کی روحانی زندگی پر قانع ہے یا کہ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو کر عبد مجاہد بن چکا ہے ؟ مگر اس نفسیاتی سوال کا جواب دینے سے پہلے اپنے دلوں کو اچھی طرح ٹول لیں کہ کہیں محض رسمی اور نمائشی باتوں میں الجھ کر آپ کا نفس دھوکا نہ دے دے۔کیونکہ بعض اوقات ایک مادیت کی دلدل میں پھنسا ہوا انسان بھی اپنے آپ کو روحانیت کے سمندر کا تیراک خیال کرنے لگ جاتا ہے اور بعض اوقات ایک قاعد بھی کسی شخص کو کبھی کبھار کلمہ خیر کہہ دینے کی وجہ سے اپنے آپ کو مجاہد سمجھنے لگ جاتا ہے۔لیکن حقیقی محاسبہ وہی ہے جو حالات کے صحیح اور گہرے اور غیر جانبدارانہ مطالعہ پر مبنی ہو اور لَو عَلى اَنْفُسِكُمُ کے سنہری حکم کے ماتحت انسان اپنے نفس کے خلاف بھی سچی شہادت دینے کی طاقت رکھتا ہو۔پس ہمارے دوست حقیقی محاسبہ کے رنگ میں سوچیں اور اپنے دل سے ٹھیک ٹھیک جواب حاصل کریں تا وہ اپنا موجودہ مقام معلوم کر کے اگلا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر سکیں۔اللہ تعالیٰ میرا اور سب دوستوں کا حافظ و ناصر ہوا اور ہمیں اپنا مجاہد عبد بننے کی توفیق عطا کرے۔وَمَا تَوْفِيْقَنَا إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيُّ الْعَظِيم۔( مطبوعه الفضل ۳۰ را بریل ۱۹۴۸ء)