مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 199 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 199

۱۹۹ مضامین بشیر جوصرف اس قدر تیرنا جانتے ہیں کہ خود ڈوبنے سے بچ جائیں مگر دوسروں کو بچانے کی ہمت نہیں رکھتے اور نہ انہیں دوسروں کو بچانے کی قدر و قیمت کا چنداں احساس ہوتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن شریف اپنی اصطلاح میں قاعد کے نام سے یاد کرتا ہے۔یعنی یہ لوگ بے شک روحانیت کے زندگی بخش میدان میں داخل تو ہو چکے ہیں مگر داخلہ کے بعد وہ گویا ایک ہی جگہ دھرنا مار کر بیٹھ گئے ہیں۔“ اور دوسرے لوگوں کو اس میدان میں کھینچ لانے کے لئے جد و جہد نہیں کرتے۔(چهارم) چوتھی قسم کی زندگی وہ ہے جسے گو یا اعلیٰ روحانی زندگی کہنا چاہئے اس قسم کی زندگی میں انسان۔۔۔۔۔۔خدا کو صرف خود ہی نہیں پاتا اور اخروی زندگی پر ایمان لا کر صرف اپنے ذاتی اعمال کو ہی درست کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔بلکہ اس ایمان کی قدر و قیمت اور اس کے عظیم الشان نتائج کو پہچان کر گویا خدا کا سپاہی بن جاتا ہے اور اپنے ساتھ اپنے اردگرد کی دنیا کو بھی مادیت کے میدان سے نکال کر خدا کا عبد بنانے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔وہ اس لوہے کی طرح ہو جاتا ہے جو مقناطیس کے ساتھ جوڑ اور ملاپ کی وجہ سے خود بھی گویا ایک چھوٹا سا مقناطیس بن جاتا اور لوہے کے دوسرے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیتا ہے۔اس کی دن رات یہی کوشش ہوتی ہے کہ نہ صرف خود نجات پائے بلکہ دوسروں کو بھی نجات حاصل کرنے میں مدد دے۔یہ وہ طبقہ ہے جو قرآنی اصطلاح میں مجاہد کہلاتا ہے۔یعنی وہ لوگ جو روحانیت کے میدان میں داخل ہو کر بیٹھ نہیں جاتے۔بلکہ ان کی جد و جہد دوسروں کو اس میدان میں کھینچ لانے میں صرف ہونی شروع ہو جاتی ہے۔“ وہ نہ صرف خود تیرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی تیرنا سکھاتے اور ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔یہ لوگ بے شک انسانیت کی مادی ضرورتوں کی طرف بھی واجبی توجہ دیتے ہیں مگر صرف انہی باتوں میں الجھ کر نہیں رہ جاتے بلکہ ان باتوں کو بھی دنیا کی روحانی زندگی کے بہتر بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔یہی لوگ خدا کے سچے بندے اور سچے خادم ہیں۔اس لئے وہ عبدا اور مجاہد کہلاتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ انسانی زندگی امکانی طور پر چار قسم کی ہوتی ہے (۱) ادنی حیوانی زندگی جس میں انسان اپنے نفس اور اپنے قریبی عزیزوں کی مادی ضروریات کے پورا کرنے میں منہمک رہتا ہے۔جیسا کہ ادنی قسم کے جانوروں کا طریق ہے (۲) اعلیٰ حیوانی زندگی جس میں انسان کی نظر تو بے شک مادی میدان میں ہی محصور ہوتی ہے مگر وہ اس میدان میں نہایت وسیع ہو جاتی ہے ، یعنی ایک طرف تو وہ اپنے نفس اور عزیزوں سے آگے نکل کر اپنی قوم یا ملک وغیرہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور دوسری طرف وہ صرف ادنی اور ابتدائی مادی اغراض تک محدود نہیں رہتی۔بلکہ ہر قسم کی مادی ترقی کے حصول کو اپنے دائرہ عمل میں شامل کر لیتی ہے۔(۳) ادنی روحانی زندگی جس میں انسان خدا کو پہچانتا اور اس پر