مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 165

۱۶۵ مضامین بشیر نے یہاں تک حکم دیا کہ پختگی سے پہلے درخت کے پھل کو مت بیچو۔کیونکہ نہیں کہہ سکتے کہ پختہ ہونے تک اس پھل پر کیا گزرے۔الغرض ہر کاروبار میں دیانت کے پہلو کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔اور وہ لوگ جن کی دیانت داری مشکوک ہو کبھی بھی لوگوں میں عزت نہیں پاتے۔اور اگر انہیں وقتی طور پر کچھ زائد نفع حاصل ہو بھی جائے تو بالآخر وہ ضرور تباہی کا منہ دیکھتے ہیں۔استقلال چوتھی چیز جو کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے وہ استقلال ہے۔جسے قرآن شریف نے عربی اصطلاح کے مطابق صبر کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔استقلال سے یہ مراد ہے کہ جب ایک کام کو ہاتھ ڈالا جائے تو شروع کی ناکامیوں اور ٹھوکروں سے گھبرا کر یا ویسے ہی تلون مزاجی کے رنگ میں اکتا کر اس کام کو چھوڑ نہ دیا جائے۔خدا تعالی نے دنیا میں تدریج کے اصول کو قائم کیا ہے۔یعنی ہر چیز آہستہ آہستہ ترقی کر کے اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔درخت ہی کو دیکھو کہ شروع میں ایک چھوٹا سا بیج ہوتا ہے۔پھر وہ ایک نرم اور کمزور کونپل کی طرح باہر نکلتا ہے اور کافی عرصہ تک ایسا نازک نظر آتا ہے کہ ذراسی چوٹ اسے مٹاسکتی ہے۔مگر بالآخر ایک شاندار اور تناور درخت بن جاتا ہے۔جو سخت سے سخت طوفان میں بھی گرنے کا نام نہیں لیتا لیکن افسوس ہے کہ اکثر مسلمان نوجوان بے صبری کی مرض میں مبتلا ہو کر ہاتھ پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں اور جب کچھ عرصہ تک انہیں ان کا خیالی اور موہوم نفع حاصل نہیں ہوتا تو اکتا کر کام کو چھوڑ دیتے ہیں۔یہ طریق انفرادی اور قومی ترقی کے لئے سخت مہلک ہے جو نو جوان یا جو قو میں صبر و استقلال کی صفت سے محروم ہوتی ہیں وہ کبھی بھی دنیا میں ترقی نہیں کرتیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محنت اور جد و جہد کرنے والا دنیا میں کون گزرا ہے۔مگر پھر بھی آپ کو عرب جیسے ملک میں کامیابی کے لئے اکیس سال تک نہایت مایوس کن حالات میں صبر سے کام لینا پڑا اور اس عرصہ میں اسلام کی کشتی بعض اوقات بظاہر اس طرح ڈگمگائی کہ دیکھنے والوں نے سمجھا کہ بس اب یہ ڈوب جائے گی۔لیکن آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صبر کا پھل پایا اور مکہ کی تاریک گلیوں میں سے رات کے وقت اکیلا نکلنے والا انسان بالآخر دس ہزار قدوسیوں کی سرداری میں فتح و ظفر کا پرچم لہراتا ہوا مکہ میں داخل ہوا۔بے شک یہ کامیابی ایک خاص خدائی انعام تھی۔مگر اس میں بھی کیا شک ہے کہ بظاہر یہ انعام صبر و استقلال کے ہی ذریعہ حاصل ہوا۔پس استقلال بھی انسانی کامیابی کا ایک بھاری گر ہے اور بے صبری ایک مہلک زہر ہے جو اچھے سے اچھے کام کو بھی تباہ کر دیتا اور نا کام بنا دیتا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کل اکثر مسلمان بے صبری کی مرض میں مبتلا ہیں۔اور جب چار دن کے انتظار کے بعد کسی کام میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو