مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 164 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 164

۱۶۴ مضامین بشیر قدر کو کم کرنے والی عادتوں میں نشے کی چیزیں بھی شامل ہیں اور میں اپنے خیال کے مطابق تمباکونوشی کو بھی اس فہرست میں شامل سمجھتا ہوں۔بعض کرسی نشین فلسفی کہا کرتے ہیں کہ سگریٹ نوشی تخیل کو بڑھاتی اور سوچنے کے مادہ کو ترقی دیتی ہے۔ممکن ہے کسی حد تک یہ درست ہو مگر یہ اسی قسم کی دلیل ہے۔جیسا کہ قرآن شریف نے شراب اور جوئے کے حق میں بیان کیا ہے۔مگر اس کے باوجود اس نے یہ فرماتے ہوئے شراب اور جوئے کو ممنوع قرار دیا ہے کہ اِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا۔یعنی شراب اور جوئے کا نقصان ان کے نفع سے بڑھ کر ہے۔بہر حال میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمبا کو ہوتا تو آپ ضرور اس کے استعمال کو منع فرما دیتے۔میں ایک لمحہ کے لئے بھی صحابہ کی مقدس جماعت کو ایک سگریٹ نوشوں کی پارٹی کی صورت میں اپنے تصور میں نہیں لاسکتا۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔اصل مطلب یہ ہے کہ ہر میدان میں کامیابی کے لئے محنت اور استغراق نہایت ضروری چیز ہے اور دنیا میں وہی لوگ ترقی کرتے ہیں جو اپنے کاموں میں محنت اور جانفشانی کے طریق کو اختیار کرتے ہیں مگر مجھے شرم کے ساتھ یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ آج کل مسلمانوں میں اس جو ہر کی بہت کمی ہے۔رات کو دیر دیر تک گپ بازی میں وقت گزارنا اور صبح کے قیمتی وقت کو سونے میں ضائع کر دینا مسلمان نوجوانوں کا ایک خاصہ ہورہا ہے حالانکہ یہ وہ چیز ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر منع فرمایا ہے۔دیانت کامیابی کے حصول کے لئے تیسری بڑی چیز دیانت داری ہے۔دیانت داری ایک ایسا جو ہر ہے جو انسان کی قدر و قیمت کو بے انتہا بڑھا دیتا ہے اور اس کے اندر ایک ایسی شان پیدا کر دیتا ہے کہ جس کے مقابل پر ہر دوسرے شخص کو جھکنا پڑتا ہے۔سچ بولنا۔امانت میں خیانت نہ کرنا۔دھوکہ دینے کے طریق سے احتراز کرنا۔اپنے نفع کے علاوہ دوسرے کے فائدہ کا بھی خیال رکھنا۔یہ سب باتیں دیانت داری کے مختلف شعبے ہیں جو انسان کے کام کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔تاجروں کے لئے دیانت داری کا مخصوص پہلو یہ ہے کہ وہ ناقص چیز کو اچھا کہہ کر نہ بیچیں اور نفع میں اس اصول کو مدنظر رکھیں کہ ان کی ذات کے علاوہ ان کے گاہکوں کو بھی فائدہ پہنچے اور بڑے اور چھوٹے اور واقف کار اور نا واقف کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم غلہ کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے اور آپ نے دیکھا کہ وہ اوپر سے خشک تھا لیکن جب آپ نے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر اندر کا غلہ نکالا تو وہ پانی سے تر بتر تھا۔اس پر آپ سخت خفا ہوئے اور فرمایا کہ جو تا جر گا ہک کو دھوکہ دیتا ہے وہ مسلمان نہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو دیانت داری کا اتنا احساس تھا کہ آپ