مضامین بشیر (جلد 2) — Page 166
مضامین بشیر ۱۶۶ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے دروازے کی راہ لے لیتے ہیں۔چاروں صفات کا ایک ہی وقت میں پایا جانا ضروری ہے۔یہ وہ چار موٹے موٹے مادی وسائل ہیں جن سے انسان دنیا میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔(اول) علم اور فن کی واقفیت (دوم) محنت اور جانفشانی (سوم) دیانت داری اور امانت (چہارم ) صبر اور استقلال۔یہ گویا وہ چار دیواری ہے۔جس سے انسانی کاموں کی عمارت تکمیل پاتی ہے۔لیکن جس طرح اگر کسی کمرہ کی چار دیواروں میں سے ایک دیوار گری ہوئی ہو تو اس کمرہ کے اندر رہنے والا شخص سردی گرمی اور چور چکار کے خطرہ سے محفوظ نہیں ہوتا۔اسی طرح جو شخص علم تو رکھتا ہے مگر محنت کے جوہر سے عاری ہے یا محنتی تو ہے مگر اس کے علم کا خانہ خالی ہے۔یا وہ علم اور محنت دونوں خوبیوں سے مزین ہے مگر دیانت دار نہیں یا دیانت دار بھی ہے۔مگر اس کے صبر و استقلال کا دامن تہی ہے تو وہ اپنی بعض خوبیوں کے باوجود کبھی بھی پوری کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔جس کے لئے اس عمارت کی چاردیواری کی تکمیل ضروری ہے۔اس کی مثال ایک ایسے برتن کی ہے۔جس کی تین طرفیں تو ٹھیک ہوں مگر چوتھی طرف ٹوٹی ہوئی ہو۔کیا ایسے برتن میں ڈالا ہوا دودھ سلامت رہ سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔اسی طرح ان چار صفات میں سے سب کا پایا جانا ضروری ہے۔ورنہ کامیابی ایک خیال موہوم۔دعا لیکن چار دیواری کے لئے بھی ایک چھت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔جو اوپر سے آنے والے خطرات کو روکتی ہے اور یہ چھت دُعا ہے جسے قرآن شریف نے صلوٰۃ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ یعنی تم اپنے کاموں میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک طرف صبر واستقلال کا اور دوسری طرف دعا اور نماز کا طریق اختیار کرو۔اس مختصر فقرہ میں علم اور محنت اور دیانت کے ذکر کو بظاہر ترک کر کے صبر کے لفظ میں مرکوز کر دیا گیا ہے کیونکہ صبر سے محض بے کاری میں انتظار کرنا یا ایک جگہ پر دھر نا مار کر بیٹھے رہنا مراد نہیں بلکہ کسی صحیح طریق کار پر استقلال کے ساتھ قائم رہنا مراد ہے اور یہ طریق کا روہی ہے جسے دوسری جگہ قرآن شریف نے علم اور استغراق اور امانت کے لفظوں سے یاد کیا ہے مگر اس جگہ تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔بہر حال دعا ایک روحانی ذریعہ ہے جو دنیا کے مادی ذرائع کے لئے بطور چھت کے ہے اور سچے مسلمانوں کو روحانی ذریعہ کی طرف سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔دراصل جب ایک انسان اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق علم اور محنت اور دیانت اور استقلال کے رستوں کو اختیار کر لیتا ہے تو پھر بھی بشری کمزوری کی وجہ سے اس کے کام میں بعض رخنے باقی رہ جاتے ہیں اور ان رختوں کو دعا پورا کرتی ہے۔گویا کامیابی کے ظاہری اسباب کو اختیار کرنے والا انسان خدا سے یہ دعا کرتا