مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 160 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 160

مضامین بشیر 17۔اس روز نامچہ کے درج شدہ واقعات کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ ایک یک طرفہ اور جانبدارانہ بیان ہے۔بلکہ حسن اتفاق سے ان واقعات کے بہت سے غیر جانبدار بلکہ غیر ملکی گواہ بھی موجود ہیں۔چنانچہ ہمارے پاس چودہ کس ہندوؤں اور سکھوں اور ہندوستانی عیسائیوں کی تحریری شہادت موجود ہے کہ قادیان پر سکھوں کا حملہ ہوا اور قتل وغارت اور لوٹ مار کا میدان گرم رہا۔یہ شہادت ہر باعزت متلاشی حق کو دکھائی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ اتفاق سے ان ایام میں انگلستان سے آئے ہوئے ایک معزز انگریز نو مسلم لیفٹینینٹ آرچرڈ قادیان میں موجود تھے اور انہوں نے بہت سے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور واپس جا کر ولائت کے اخباروں میں شائع کرائے۔( دیکھو ساؤتھ ویسٹرن سٹارلنڈن مورخہ ۱۰ را کتوبر ۱۹۴۷ء اور ایوننگ پوسٹ برسٹل مورخہ ۱۱ را کتوبر ۱۹۴۷ء۔) اسی طرح ان ایام میں ایک معزز عرب بیرسٹر سید منیر احصنی ملک شام سے قادیان آئے ہوئے تھے۔اور متعدد واقعات ان کی آنکھوں کے سامنے گزرے اور بالآخر دو عیسائی غیر جانبدار انگریز جرنلسٹ مسٹر ڈگلس براؤن اور مسٹر جاس لین بنیلیسی خود حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے قادیان گئے۔اور پھر انہوں نے اپنی آزادانہ شہادت انگلستان کے اخباروں میں شائع کرائی۔اور قادیان میں سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم کی تصدیق کی ( دیکھو ڈیلی ٹیلی گراف لندن مورخه ۱۳/اکتوبر، ۱۷ را کتوبر ۱۹۴۷ء اور ڈیلی گراف لندن مورخه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۴۷ء) یہ اسی آزادانہ شہادت کا نتیجہ تھا کہ لاہور کے مشہور اینگلو انڈین اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنے ایک لیڈنگ آرٹیکل میں صاف الفاظ میں لکھا تھا کہ قادیان کے مظالم آزاد غیر جانبدار اور شہادت سے پوری طرح ثابت ہیں۔( دیکھوسول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور مورخه ۲۳ /اکتوبر ۱۹۴۷ء) ( مطبوعه الفضل ۱۳ / جنوری ۱۹۴۸ء)