مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 159 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 159

۱۵۹ مضامین بشیر جائیدا دنذرآتش کر دی گئی یا لوٹ لی گئی۔مگر مجھے اس جگہ صرف قادیان کے متعلق کچھ کہنا ہے جو جماعت احمدیہ کا مقدس مرکز ہے۔اور جسے اپنی انتہائی پُر امن روایات اور وفا دارانہ جذبات کے باوجود اس طوفان بے تمیزی کا شکار ہونا پڑا۔قادیان کی بستی آج سے قریبا ساڑھے چارسو برس قبل ہمارے بزرگوں نے شہنشاہ بابر کے زمانہ میں ثمر قند و بخارا کی طرف سے آکر لاہور سے ستر میل شمال مشرقی جانب آباد کی تھی۔اور ہمارا خاندان سلطنت مغلیہ کے زمانہ میں ہمیشہ اعلیٰ مناصب پر فائز رہا۔اسی لئے جب مغلوں کے تنزل پر وسط پنجاب میں سکھوں نے سر اٹھایا تو ان کا پہلا نشانہ قادیان کی ریاست بنی۔چنانچہ انیسویں صدی کے شروع میں ہمارے خاندان کو پہلی دفعہ قادیان چھوڑنا پڑا اور ہمارے آباء نے کئی سال تک جلا وطنی میں دن گزارے۔بالآخر جب مہا راجہ رنجیت سنگھ نے چھوٹی چھوٹی سکھ ریاستوں کو مغلوب کر کے پنجاب میں ایک مضبوط مرکزی حکومت قائم کر لی تو ہمارے دادا مرزا غلام مرتضی خان صاحب مہا راجہ کی اجازت سے قادیان واپس آگئے۔اور با وجود زخم خوردہ ہونے کے ملک کے امن کی خاطر اور خاندانی روایات کی بنا پر ملک کی قائم شدہ حکومت کے ہمیشہ وفا دارر ہے۔۱۸۸۹ء میں ہمارے والد بزرگوار حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے خدا سے حکم پا کر چودھویں صدی کے مجددا ور مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا اور جماعت احمدیہ کی بنیا درکھی۔اس وقت سے قادیان کا قصبہ جماعت احمدیہ کا مقدس مرکز ہے۔مقدس سے میری یہ مراد نہیں کہ قادیان میں بہت سی مسجد میں ہیں۔مسجد میں بے شک نہایت مقدس چیز ہیں لیکن جب ہم قادیان کو مقدس کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک مامور من اللہ کا مولد اور مسکن اور مدفن ہے۔جہاں اس نے اپنی زندگی کے دن گزارے۔اپنے خدا کی یاد میں راتیں کائیں۔خدا سے نشانات پائے خدا سے حکم پا کر ایک مذہبی سلسلہ کی بنیاد رکھی اور خدا ہی کے حکم کے ماتحت قادیان کو اس مذہبی سلسلہ کا مرکز قرار دیا۔جہاں وہ تمام مذہبی ادارے واقع ہیں۔جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی شاخوں کی تعلیمی اور تربیتی اور تبلیغی نگرانی کرتے ہیں۔اور جو خلافت کا سلسلہ خدائی منشاء کے ماتحت بائی جماعت احمدیہ کی وفات ۱۹۰۸ء پر قائم ہوا۔اس کا صدر مقام بھی ہمیشہ قادیان رہا ہے۔پس قادیان صرف تاریخی لحاظ سے ہی ایک مقدس مقام نہیں بلکہ ایک عالمگیر مذہبی جماعت کی ہدایت اور نگرانی کا زندہ مرکز ہے۔اور پھر جماعت احمد یہ کوئی باغیوں یا لٹیروں کا گروہ نہیں بلکہ دینی اور علمی مشاغل کے لئے اپنی جانوں کو وقف رکھنے والے لوگوں کی پُر امن جماعت ہے۔اس مرکز اور ایسی جماعت کو جس منتظم اور ظالمانہ اور بے دردانہ رنگ میں نقصان پہنچایا گیا۔اس کی مختصر روئیدا داو پر کے روز نامچہ میں درج کی گئی ہے۔