مضامین بشیر (جلد 2) — Page 161
171 مضامین بشیر کامیابی حاصل کرنے کے گر علم محنت۔دیانت - استقلال۔دُعا 66 میں نے اوپر کے عنوان میں گر کا لفظ استعمال کیا ہے۔جسے بعض لوگ راز کہہ کر بھی پکارا کرتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے نہ تو کوئی گر ہے اور نہ کوئی راز بلکہ ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا ایک سیدھا سادھا رستہ مقرر کر رکھا ہے۔مگر لوگ اپنی عجوبہ پسندی میں اس راستہ کو ( بلکہ بعض اوقات اس راستہ کے فقدان کو ) راز کا نام دے کر لوگوں کے دل و دماغ کو مسحور کرنا چاہتے ہیں۔قرآن شریف نے اس بحث کو اپنی ابتدائی سورت کی اس مختصر سی دعا میں حل کر دیا ہے کہ اِهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ( یعنی اے خدا ہمیں ٹھیک راستہ دکھا ) کیونکہ دراصل صراط مستقیم ہی کامیابی کا راز اور گر ہے۔مستقیم کے لفظ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ٹھیک راستہ وہ ہے جو چھوٹا ہو اور منزل مقصود تک پہنچانے والا ہو۔اگر ایک راستہ منزل مقصود تک تو پہنچاتا ہے لیکن چھوٹا نہیں ہے بلکہ چکر کاٹ کر اور وقت ضائع کرا کے منزل تک پہنچاتا ہے تو وہ صراط مستقیم نہیں اسی طرح اگر ایک رستہ چھوٹا تو ہے مگر منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا تو وہ بھی صراط مستقیم نہیں اور قرآن شریف نے صراط مستقیم کی علامتیں یہ بتائی ہیں کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ يعنى الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی نشانی یہ ہے کہ دوسرے لوگ اس رستہ کو اختیار کر کے عملاً کامیابی حاصل کر چکے ہوں۔یا اس راستہ کو ترک کر کے ناکامی کا منہ دیکھ چکے ہوں۔پس میں نے جو اوپر کے عنوان میں گر“ کا لفظ لکھا ہے۔اس سے عرف عام والاگر مراد نہیں بلکہ قرآن شریف والا صراط مستقیم مراد ہے۔مجھے آج کل اس مضمون کی ضرورت خصوصیت کے ساتھ اس واسطے محسوس ہوئی کہ گزشتہ فسادات کے قیامت خیز طوفان نے ملک کی اقتصادی اور تمدنی زندگی میں ایسا تلاطم بر پا کر دیا ہے کہ لاکھوں انسان اپنی جگہ سے اکھڑ کر زندگی کے وسیع میدان میں اس قدر پریشان حال اور بکھرے ہوئے پڑے ہیں کہ انہیں سنبھالنے کے لئے خاص انتظام اور خاص جد و جہد کی ضرورت ہے تا کہ وہ اس نئے دور میں اپنے قدموں کو اس رستہ پر ڈال سکیں جو خدا تعالیٰ کی از لی تقدیر نے کامیابی کے حصول کے لئے