مضامین بشیر (جلد 2) — Page 117
مضامین بشیر جان یا سامان و عند الامتحان يُكرم المرءُ اويُهان ابتلاء اور مصیبت کا زمانہ بھی ایک زلزلہ کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ جس طرح بسا اوقات ایک بھاری زلزلہ میں زمین کا اندرونہ پھٹ کر نگا ہو جاتا ہے، اسی طرح شدید مصائب کے دھکے میں بھی انسانی فطرت کی مخفی گہرائیاں عریاں ہو کر دنیا کے سامنے آجاتی ہیں۔اسی لئے قرآن شریف فرماتا ہے کہ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَانَ وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَان۔۔یعنی جب آخری زمانہ میں دنیا پر شدید زلزلے آئیں گے جو گویا اس کی تاریخ میں یاد گار بننے والے ہوں گے تو اس وقت زمین اپنے بوجھوں کو باہر نکال پھینکے گی۔یعنی جو چیزیں اس کی گہرائیوں میں گویا چھپ کر بیٹھی ہوئی ہوں گی ، وہ بھی اس وقت ابھر کر باہر آجائیں گی اور اخفا کے پر دے دور ہو جائیں گے۔یہی حال مصائب اور امتحانوں کے وقت میں ہوتا ہے کہ انسانی قلوب کی مخفی حقیقتیں جن پر عام حالات میں سینکڑوں قسم کے پردے پڑے رہتے ہیں، مصائب کے وقت میں تنگی ہو کر باہر آ جاتی ہیں۔تب انسانی آنکھ یہ نظارہ دیکھتی ہے کہ بعض لوگ جو بظاہر بہادر اور ثابت قدم نظر آتے تھے وہ دراصل بزدل اور لرزہ براندام نکلتے ہیں اور کئی لوگ جو بظاہر کمزور اور رعشہ بر پا دکھائی دیتے تھے ، وہ دراصل قومی اور ایک مضبوط چٹان کی طرح قائم ثابت ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ یہی حال ہمارے موجودہ امتحان کے وقت میں ہوا ہے۔نام لینے اچھے نہیں ہوتے اور امام کے سوا اس کا کسی کو حق بھی نہیں ہے۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں اس بھاری ابتلاء کے وقت میں بعض لوگ جو بظا ہر نہایت پختہ نظر آتے تھے ، وہ بعض لحاظ سے متزلزل ہوتے ہوئے دکھائی دیئے۔وہاں کئی لوگ ایسے بھی نکلے جن کے متعلق کوئی خاص اعلیٰ خیال نہیں تھا مگر ابتلاء کے وقت نے ان کو ایسا ظاہر کیا کہ گویا وہ ایک نہایت مضبوط چٹان ہیں۔جنہیں کوئی آندھی اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی اور الحمد للہ کہ اکثر دوستوں نے بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے اور کمزور لوگوں کی تعداد نسبتاً بہت کم ثابت ہوئی ہے۔مگر مجھے اس جگہ ایک خاص پہلو کا ذکر کرنا مقصود ہے جس کے متعلق ایک حصہ جماعت میں نا واقعی کی وجہ سے زیادہ غلط نہی نظر آتی ہے اور بعض فتنہ پرداز اس غلط فہمی کو ہوا دے رہے ہیں۔میری مراد اس اعتراض سے ہے جو بعض لوگوں کے دل میں پیدا ہوا ہے اور