مضامین بشیر (جلد 2) — Page 118
مضامین بشیر ۱۱۸ دوسروں کے دل میں پیدا کیا جا رہا ہے کہ جہاں قادیان سے نکلتے ہوئے بعض لوگ زیادہ سامان لے آئے ہیں۔وہاں بعض دوسرے لوگوں کا بہت کم سامان آیا ہے اور بعض کا سامان تو قریبا بالکل ہی ضائع ہو گیا ہے اور گویا اس طرح بے انصافی اور لحاظ داری برتی گئی ہے۔اس اعتراض کا جواب میں نا واقف دوستوں کی اطلاع کے لئے ذیل میں درج کرتا ہوں۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز قادیان سے ۳۱ را گست ۱۹۴۷ کی دو پہر کو تشریف لائے تھے اور حضور نے اپنے پیچھے اس خاکسار کو امیر مقامی مقرر فرمایا اور میں نے ۲۳ ستمبر ۱۹۴۷ ء تک ان فرائض کو جہاں تک اور جس رنگ میں بھی مجھ سے ممکن ہو سکا ادا کرنے کی کوشش کی۔واستغفر الله ربی من کل ذنب و اتوب اليه - میرے بعد یعنی جب میں حضرت صاحب کے حکم سے لاہور آ گیا تو مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے امیر مقامی مقرر ہوئے جو ۱۴ /اکتوبر ۱۹۴۷ء تک یہ فرائض انجام دیتے رہے اور پھر ان کے لاہور بلالئے جانے کے بعد مولوی جلال الدین صاحب شمس امیر مقرر ہوئے جو اب تک قادیان میں امیر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔چونکہ ہماری آنکھیں دیکھ رہی تھیں کہ قادیان اور اس کے ماحول میں فتنہ دن بدن بڑھ رہا ہے اور ضلع گورداسپور کے ایک ایک مسلمان گاؤں کو خالی یا تباہ کر کے قادیان کے اردگرد خطرہ کا دائرہ روز بروز تنگ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف قریباً پچاس ہزار بیرونی پناہ گزینوں نے قادیان میں جمع ہو کر ہماری مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا اور ہم دیکھتے تھے کہ مفسدہ پردازوں کی سکیم صرف قتل و غارت یا لوٹ مار یا مسلمان آبادی سے ضلع کو خالی کرانے تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مسلمان عورتوں کے ننگ و ناموس کو برباد کرنا بھی شامل ہے۔(چنانچہ میری موجودگی میں ہی ماحول قادیان کی اغوا شدہ عورتوں کی تعداد سات سو تک پہنچ چکی تھی اور بہت سی معصوم عورتوں کی عصمت دری کے نظارے گویا ہماری آنکھوں کے سامنے تھے ) اس لئے ہم نے دوستوں کے مشورہ اور حضرت صاحب کی اصولی ہدایت کے ماتحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو عورتوں اور بچوں کو جلد از جلد قادیان سے باہر بھجوا دیا جائے اور اس کے لئے ہم قریباً مجنونانہ جد و جہد کے ساتھ دن رات لگے ہوئے تھے۔حتی کہ ایک دن میں نے انتہائی بے بسی کی حالت میں حضرت صاحب کو خط لکھا کہ ہمارے ارد گر د خطرہ کا دائرہ بڑی سرعت کے ساتھ تنگ ہوتا جارہا ہے اور آپ کی ہدایت یہ ہے کہ کسی صورت میں بھی حکومت کا مقابلہ نہ کیا جائے ( اور حکومت کا مقابلہ ہماری تعلیم کے بھی خلاف ہے اور ہماری طاقت سے بھی باہر۔گوحق یہ ہے کہ اس وقت سکھ جتھے اور حکومت گویا ایک معجون مرکب بنے ہوئے ہیں اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا مشکل ہے ) اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کی جان کو حتی الوسع بچاؤ کیونکہ ضائع شدہ