مضامین بشیر (جلد 2) — Page 106
مضامین بشیر 1+7 پس افراد کی طرح قوموں پر بھی مختلف حالتیں آسکتی ہیں۔ایک وہ جبکہ وہ کسی وقت غصہ اور انتقام کے جوش میں مدہوش ہو کر اپنے نفع اور نقصان کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہو۔اور دوسرے وہ جبکہ وہ اپنے غصہ کو قابو میں لا کر ہر چیز کو اپنے اصلی رنگ میں دیکھ سکے۔اور اپنے نفع اور نقصان کا صحیح جائزہ لے سکنے کے قابل ہو۔میں اپنے صوبہ کی نامور خالصہ قوم اور اپنے ملک کی مٹی سے پیدا شدہ سکھ جاتی سے درد بھری اپیل کرتا ہوں کہ وقت بہت نازک ہے اور بہت تنگ۔وہ اپنے وقتی جوشوں اور غصوں کو قابو میں لا کر اپنی قوم اور اپنے ملک کے مستقل فائدہ کی طرف نظر ڈالیں۔اور اس فطری جو ہر کو بیدار کر کے جو ہمارے آسمانی آقا نے ہر فرد اور ہر قوم میں پیدا کر رکھا ہے ، ہوش اور دور بینی کی آنکھوں سے اپنے نفع نقصان کو دیکھیں۔بہت سی مشترک باتوں کی وجہ سے جن کی تفصیل میں اپنے سابقہ مضمون میں بیان کر چکا ہوں۔سکھوں اور مسلمانوں کا جوڑ ایک طبعی پیوند کا رنگ رکھتا ہے۔جو کبھی بھی سکھوں اور ہندوؤں کو حاصل نہیں ہو سکتا۔میں نے سکھوں اور مسلمانوں کے مشترک مفاد کی تشریح کرنے کے بعد لکھا تھا کہ :- دیکھو ہر زخم کے لئے خدا نے ایک مرہم پیدا کی ہے اور قومی زخم بھی بھلانے سے بھلائے جا سکتے ہیں مگر غیر فطری جوڑ کبھی بھی پائیدار ثابت نہیں ہوا کرتے۔اگر ایک آم کے درخت کی شاخ نے دوسرے آم کے درخت کی شاخ کے ساتھ ٹکرا کر اسے توڑا ہے تو بے شک یہ ایک زخم ہے جسے مرہم کی ضرورت ہے مگر یہ حقیقت پھر بھی قائم رہے گی کہ جہاں پیوند کا سوال ہوگا ، آم کا پیوند بہر حال آم کے ساتھ ہی ملے گا۔دولڑنے والے بھائی لڑائی کے باوجود بھی بھائی رہتے ہیں۔مگر دو غیر آدمی جن کے اندر بہت کم چیزوں میں اشتراک ہو عارضی دوستی کے باوجود بھی ایک نہیں سمجھے جا سکتے۔“ پنجاب میں بے شمار ایسے گاؤں موجود ہیں۔(اور اگر ایڈیٹر صاحب شیر پنجاب قادیان تشریف لائیں تو میں انہیں خود اپنے علاقہ میں یہ نظارہ دکھا سکتا ہوں ) کہ جہاں ایک ہی گاؤں کی دو پتیوں میں سے ایک میں سکھ جاٹ آباد ہیں اور دوسری میں مسلمان جاٹ اور دونوں ایک ہی نسل اور ایک ہی قوم اور ایک ہی گوت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے رہنے سہنے کا طریق بھی بالکل ایک ہے۔گویا دورشتہ دار ہیں جو پہلو بہ پہلو بس رہے ہیں اور وہ سارے معاملات میں باہم مشورہ اور ملاپ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔اس قسم کے نظارے ایک خالی فلسفہ نہیں ہیں۔بلکہ زندگی کی جیتی جاگتی تصویر کا حصہ ہیں۔اور کوئی غیر متعصب سمجھدار شخص انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔بے شک رہتک وغیرہ میں