مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 105

۱۰۵ مضامین بشیر ہے، اس لئے انہیں مسلمانوں پر اعتبار نہیں رہا۔میں گذشتہ اڑھائی ماہ کی تلخ تاریخ میں نہیں جانا چاہتا۔مگر اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ سب جگہ مسلمانوں کی طرف سے پہل نہیں ہوئی اور زیادہ ذمہ داری لازماً پہل کرنے والے پر ہی ہوا کرتی ہے۔اور اس قسم کے فسادات تو جنگل کی آگ کا رنگ رکھتے ہیں۔جو ایک جگہ سے شروع ہو کر سب حصوں میں پھیل جاتی ہے اور خواہ اس آگ کا لگانے والا کوئی ہو، بعد کے شعلے بلا امتیار سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتے ہیں۔میں اس دعوای کی ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ مسلمانوں نے کسی جگہ بھی زیادتی نہیں کی۔لیکن کیا سکھ صاحبان یہ یقین رکھتے ہیں کہ سکھوں نے بھی کسی جگہ زیادتی نہیں کی۔آخر امرتسر میں چوک پراگ داس وغیرہ کے واقعات لوگوں کے سامنے ہیں۔اور پھر کئی جگہ بعض بے اصول ہندوؤں نے تیلی لگا کر سکھوں اور مسلمانوں کو آگے کر دیا ہے۔اور بالآخر کیا سکھوں کے موجودہ حلیفوں نے بہار کے ہزار ہا کمزور اور بے بس مسلمانوں پر وہ قیامت برپا نہیں کی تھی جس کی تباہی اور قتل و غارت کو نہ پنجاب پہنچ سکتا ہے اور نہ نواکھلی اور نہ کوئی اور علاقہ۔پس اگر گلے شکوے کرنے لگو تو دونوں قوموں کی زبانیں کھل سکتی ہیں۔اور اگر ملک کی بہتری کی خاطر ” معاف کر دو اور بھول جاؤ کی پالیسی اختیار کرنا چاہو تو اس کے لئے بھی دونوں قوموں کے واسطے اچھے اخلاق کے مظاہرے کا رستہ کھلا ہے۔۔۔۔۔۔انتقام کی کڑی ہمیشہ صرف جرات کے ساتھ اور عفوا ور در گذر کے عزم کے نتیجہ میں ہی توڑی جاسکتی ہے۔ورنہ یہ ایک دلدل ہے۔جس میں سے اگر ایک پاؤں پر زور دے کر اسے باہر نکالا جائے۔تو دوسرا پاؤں اور بھی گہرا دھس جاتا ہے۔پس اگر ملک کی بہتری چاہتے ہو۔تو مسلمان کو بہار اور گڑھ مکتیسر کو بھلانا ہو گا۔اور ہندو اور سکھ کو نو ا کھلی اور پنجاب کو بھلانا ہو گا۔“ مکرم ایڈیٹر صاحب شیر پنجاب ! کیا میرے اس نوٹ میں آپ کے اعتراض کا اصولی جواب پہلے سے نہیں آچکا ؟ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ اس سوال کو وقتی غصہ کے جذبات سے بالا ہو کر ملک وقوم کی مستقل بہتری کی روشنی میں مطالعہ کرنے کی کوشش کریں۔کسی نے پرانے زمانے میں کہا تھا کہ: میں مدہوش فلپس کے خلاف ہوش مند فلپس کے سامنے اپیل کرتا ہوں۔“