مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1049
۱۰۴۹ مضامین بشیر علیہ السلام بھی اس درس میں چلے جایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے درس میں اعلیٰ درجہ کی علمی تفسیر کے علاوہ واعظانہ پہلو بھی نمایاں ہوتا تھا کیونکہ آپ کا قاعدہ تھا کہ رحمت والے واقعات کی تشریح کر کے نیکی اور انابت الی اللہ کی رغبت دلاتے اور عذاب والے واقعات کے تعلق میں دلوں میں خشیت اور خوف پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے اور آپ کا درس بے حد دلچسپ اور ہر طبقہ کے لئے موجب جذب و کشش ہوا کرتا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کے علم النفسیر کا ایک کثیر حصہ بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ ہی کی تشریحات اور انکشافات پر مبنی ہے اور آپ کے درس میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک وسیع سمندر ہے جس کا ایک حصہ موجزن ہے اور دوسرا سا کن اور عمیق اور اس میں سے ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق پانی لے رہا ہے۔درس کے دوران میں بعض دفعہ لوگ سوال بھی کیا کرتے تھے اور حضرت خلیفہ اول ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیتے تھے اور جواب میں مخاطب کے مذاق اور حالات کے پیش نظر کبھی کبھی کوئی نہ کوئی لطیفہ بھی بیان کر جاتے تھے مگر بعض اوقات جب آپ کو سوال کرنے والے میں بلا وجہ سوال پوچھنے کا میلان محسوس ہوتا تھا یا آپ خیال کرتے تھے کہ یہ سوال ایسا ہے کہ وہ خود توجہ دے کر اس کا جواب سوچ سکتا ہے تو ایسے موقعہ پر یا تو خاموشی کے ساتھ گزر جاتے تھے یا کہہ دیتے تھے کہ یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے خودسوچو۔افسوس ہے کہ اس وقت کے نوٹ لینے والوں نے پوری احتیاط سے آپ کے اس درس کے نوٹ قلمبند نہیں کئے اور آپ کی تفسیر کا معتد بہ حصہ ضبط تحریر میں نہیں آسکا۔ہاں سننے والوں کے سینے اب تک اس بیش بہا خزانہ کے امیں ہیں اور ہر احمدی تفسیر میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے علم کی روشنی نظر آتی ہے۔خاکسار راقم الحروف نے بھی جب کہ میں بی۔اے میں پڑھتا تھا تعلیم کا سلسلہ درمیان میں چھوڑ کر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے قرآن شریف پڑھا اور پورا قرآن شریف ختم کر کے پھر اپنی تعلیم کی طرف لوٹ آیا۔یہ بھی گویا ایک پبلک درس تھا جس میں بہت سے دوسرے دوست بھی شریک ہوتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے قرآن کے درس کا نمایاں رنگ یہ ہوتا تھا کہ گویا ایک عاشق صادق اپنے دلبر و معشوق کو سامنے رکھ کر۔۔۔۔اس کے دلر با حسن و جمال اور دلکش خدو خال کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔اللہ اللہ ! کیا مجلس تھی اور اس مجلس کا کیا رنگ تھا !! حضرت خلیفہ اول رضی اللہ کو مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور اس شوق میں آپ نے بے شمار روپیہ خرچ کر کے اپنی ذاتی لائبریری بنائی تھی جس میں تفسیر و حدیث ،اسماءالرجال ، فقہ، اصول فقہ ، کلام، تاریخ ،تصوف ، سیاست ، منطق ، فلسفه، صرف و نحو، ادب، کیمیا، طب، علم جراحی، علم ہئیت اور دیگر مذاہب وغیرہ کی نادر کتابیں موجود تھیں جن میں کئی قلمی نسخے بھی تھے اور آپ کے شوق کا یہ عالم تھا کہ