مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1048 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1048

مضامین بشیر ۱۰۴۸ لئے کہ وقت کے لحاظ سے آپ احمدیت کے قبول کرنے والوں میں اول نمبر پر آ گئے۔اور سابق اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ اپنے علمی تجر اور روحانی مقام کے لحاظ سے بھی سب سے آگے تھے۔اس کے بعد جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ریاست کشمیر کی ملازمت سے فارغ ہوئے تو اس وقت کے خیال کے ماتحت اپنے آبائی وطن بھیرہ میں واپس جا کر درس تدریس اور طب کے ذریعہ خدمت دین اور خدمت خلق کا سلسلہ شروع کرنا چاہا اور اپنے سابقہ مکان کو نا کافی خیال کرتے ہوئے ایک نئے اور وسیع مکان کی تعمیر بھی شروع کرا دی۔اسی تعلق میں آپ غالباً کچھ سامان عمارت کی خرید کے واسطے لا ہور تشریف لائے اور لاہور پہنچ کر خیال آیا کہ اب قادیان کے قریب آیا ہوا ہوں حضرت صاحب سے بھی مل آؤں۔چنانچہ دو دن کی فرصت نکال کر قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔مولوی صاحب اب تو آپ فارغ ہیں۔قادیان میں کچھ ٹھہریں گے نا ؟ آپ نے اپنے خاص عاشقانہ انداز میں عرض کیا ” ہاں حضور ٹھہروں گا۔اس کے چند دن بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب آپ کو اکیلے تکلیف ہوتی ہو گی اپنے گھر سے بھی بلا لیں۔حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے فوراً بیوی کو خط لکھ دیا کہ قادیان آ جاؤ۔ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دیا۔مولوی صاحب آپ کو کتابوں کے مطالعہ کا شوق ہے بہتر ہوگا کہ آپ اپنا کتب خانہ بھی قادیان منگوالیں۔حضرت خلیفہ اول فرما یا کرتے تھے کہ میں نے بھیرہ خط لکھ دیا کہ مکان کی تعمیر بند کر دو اور میرا کتب خانہ قادیان بھجوا دو۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔مولوی صاحب اب آپ بھیرہ کا خیال جانے دیں اور اسے بھول جائیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اور محبت اور فخر کے ساتھ فرماتے تھے کہ اس کے بعد مجھے کبھی خیال تک نہیں آیا کہ بھیرہ بھی میرا وطن ہوتا تھا اور آپ نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان میں ہی ہمیشہ کے لئے دھونی رمادی اور لطف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ میں بھیرہ میں ایک مکان بنتا چھوڑ آیا ہوں۔یہ وہ اخلاص و محبت کا ماحول تھا جس میں جماعت کی خشتِ اول قائم ہوئی۔چونکہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو قرآن شریف سے انتہا درجہ کا عشق تھا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے اس لئے آپ نے قادیان آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے قرآن شریف کا درس شروع کر دیا۔یہ درس مسجد اقصیٰ میں ہوا کرتا تھا اور اوائل زمانہ میں کبھی کبھی خود حضرت مسیح موعود