مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1050 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1050

مضامین بشیر ۱۰۵۰ خود اپنے خرچ پر مولوی غلام نبی صاحب مصری کو مصر بھجوا کر وہاں کی بعض قلمی کتابوں کی نقول منگوائیں اور حق یہ ہے کہ اب تک حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا یہ ذاتی کتب خانہ ہی زیادہ تر جماعتی ضرورتوں میں کام آتا رہا ہے۔کئی سیاح اور زائرین قادیان میں اس کتاب خانہ کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوتے تھے کہ اس چھوٹے سے قصبہ میں علوم کا یہ نا درخزانہ کہاں سے آگیا ہے۔سرشاہ محمد سلیمان جو فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے ایک نہایت بلند پایہ علم دوست حج تھے انہیں ایک دفعہ سپین کی ایک نادر کتاب کی ضرورت پیش آئی جو سارے ہندوستان میں تلاش کرنے کے باوجود کہیں نہیں ملی۔آخر انہیں پتہ لگا کہ اس کا ایک قلمی نسخہ قادیان میں موجود ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی اجازت سے اس کا یہ نسخہ عاریہ حاصل کیا اور پھر بحفاظت واپس بھجوا دیا۔لاریب کئی لحاظ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی یہ ذاتی لائبریری ہندوستان میں عدیم المثال تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی بعض تحریروں میں آپ کے کتب خانہ کی بہت تعریف فرمائی ہے اور یہ سب کچھ ایک نہایت محدود ذ رائع والے انسان کے ذاتی ذوق وشوق کا ثمرہ تھا اور پھر یہ کتا بیں محض جمع کرنے کے جذ بہ کے ماتحت نمائشی رنگ میں اکٹھی نہیں کی گئیں بلکہ اس وسیع کتب خانہ کی ہر کتاب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ذاتی مطالعہ میں آتی تھی اور جابجا کتابوں کے حاشیہ پر آپ کے قلمی نوٹ پائے جاتے ہیں۔اگر ایسے شخص کو بھی خصوصاً جبکہ وہ انتہا درجہ کا ذہین اور محنتی ہو، علم کے میدان میں تنجر کا مقام حاصل نہیں ہو گا تو اور کس کو ہو گا ؟ باوجود اس کے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ با رہا فرمایا کرتے تھے کہ کئی قرآنی آیتیں جو مجھ سے کسی اور طرح حل نہیں ہوتی تھیں وہ محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت و برکت سے حل ہو گئیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو ایک خدائی بشارت کی بناء پر یہ دعویٰ تھا کہ میں خدا کے فضل سے ہر دشمن اسلام اور ہر دشمن صداقت کے ہر قسم کے اعتراض پر اس کا منہ بند کر سکتا ہوں۔فرمایا کرتے تھے کہ تسلی دینا میرا کام نہیں مگر معترض کے منہ بند کرنے کا میں ذمہ دار ہوں۔چنانچہ اسلام اور احمدیت کے خلاف ہر اعتراض کرنے والا آپ کے برجستہ جواب سے خاموش ہو کر رہ جاتا تھا۔خود سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک مخالف اسلام نے غالباً تناسخ کے عقیدہ کے تعلق میں آپ کے سامنے اسلام کی تعلی پر کوئی اعتراض کیا کہ ترجیح بلا مرجح ناممکن ہے۔آپ نے جھٹ اپنی جیب میں سے دو روپے نکال کر اس کے سامنے کر دیئے کہ ان میں سے ایک اٹھا لو۔وہ آدمی بھی کچھ سمجھ دار تھا۔تھوڑی دیر سوچ کر کہنے لگا کہ آپ نے مجھے لا جواب تو کر دیا مگر میری تسلی نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا تسلی دینا خدا کا کام ہے۔مگر میں تمہیں اسلام کے خلاف ایک قدم بھی چلنے نہیں دوں گا۔امرتسر میں عبد اللہ آتھم کے ساتھ