مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1047
۱۰۴۷ مضامین بشیر لگا کہ میں نے فوراً پلٹ کر یکہ والے کو آواز دی کہ تم ابھی ٹھہر و۔میں بھی شاید تمہارے ساتھ ہی واپس چلا جاؤں گا۔اس کے بعد میں مزید تسلی کی غرض سے دیوان خانہ کے اندر گیا اور حاضرین مجلس کو بلند آواز سے سلام کہا۔فرماتے تھے کہ خدا نے مجھے اس قلبی دکھ سے کہ میں کہاں آ گیا ہوں۔جلدی نجات دینے کے لئے ایسا فضل فرمایا کہ میرا سلام سنتے ہی مرزا امام دین صاحب اور مرزا نظام دین صاحب میں سے کسی نے یا شاید کسی اور شخص نے کہا کہ آپ نے غالباً مرزا صاحب سے ملنا ہے۔فرماتے تھے کہ یہ الفاظ سن کر میری جان میں جان آئی کہ یہاں کوئی اور مرزا بھی ہے۔( یہ خود حضرت خلیفہ اول کے الفاظ ہیں ) اور میں نے جھٹ کہا کہ ہاں ہاں میں مرزا صاحب سے ہی ملنے آیا ہوں۔اس پر انہوں نے ایک آدمی میرے ساتھ کر کے مجھے مسجد مبارک میں پہنچا دیا۔یہاں پہنچ کر میں نے اندر اطلاع بھجوائی تو چونکہ نماز کا وقت قریب تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اندر سے کہلا بھیجا کہ آپ مسجد میں تشریف رکھیں۔میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لائے اور جیسا کہ حضور نے ایک جگہ فرمایا ہے۔حضرت خلیفہ اول کو دیکھتے ہی حضور نے دل میں کہا کہ هذا دعائی (یعنی یہ شخص تو میری دعا کا ثمرہ ہے ) کیونکہ حضور نے اپنی خدا دادفر است سے فوراً پہچان لیا کہ خدمت دین کے کام کے لئے میں جس قسم کا مددگار اپنے خدا سے مانگا کرتا ہوں وہ مجھے آج مل گیا ہے اور دوسری طرف حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی حضور کو دیکھ کر ہمیشہ کے لئے اسی دامن سے لپٹ کر رہ گئے۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف مجددیت کا دعوی تھا اور ابھی تک بیعت کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوا تھا اور نہ کوئی جماعت تھی مگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کی روشنی سے پہچان لیا اور جان لیا کہ اگر موجودہ زمانہ کے طوفان ضلالت میں کوئی شخص اسلام کی کشتی کو بچانے کی اہلیت رکھتا ہے تو وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے باصرا رعرض کیا کہ اگر خدا تعالیٰ آپ کو بیعت لینے کی اجازت اور ہدایت فرمائے تو میری درخواست ہے کہ سب سے پہلے میری بیعت قبول فرما دیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے ابھی تک بیعت کا حکم نہیں ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا حکم ملا۔تو انشاء اللہ آپ کی خواہش کا خیال رکھا جائے گا۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا اور حضور نے ۱۸۸۹ء کے شروع میں لدھیانہ کے شہر میں پہلی بیعت لی تو سب سے اوّل نمبر پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ نے ہی بیعت کی اور اس طرح آپ خدا کے فضل سے قرآنی اصطلاح کے مطابق اول بھی ہو گئے۔اور سابق بھی بن گئے اوّل اس