مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1046
مضامین بشیر ۱۰۴۶ ظاہری علم کی تحصیل سے فارغ ہو کر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ریاست جموں وکشمیر میں شاہی طبیب کے طور پر ملازمت اختیار کی اور اس خدمت خلق میں وہ شان پیدا کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے راجہ اور پر جاہر دو کے کے دل میں گھر کر لیا حتی کہ کشمیر کے موجودہ راجہ کے والد ( جو اپنے زمانہ کے راجہ صاحب کے بھائی تھے ) کے ساتھ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے تعلقات تو گویا بالکل دوستوں کی طرح ہو گئے اور یہی دوستی بالآخر اندرونی رقابتوں کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول کے اخراج از کشمیر کا باعث بنی مگر آپ کا یہ اخراج قدرت کی ایک مخفی تا رتھی جس نے آپ کو کشمیر سے نکال کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں لا ڈالا اور اس کے بعد آپ ہمیشہ کے لئے قادیان ہی کے ہو گئے اور ایک پاک مٹی کا دوسری پاک مٹی سے جوڑ مل گیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ کشمیر کے واقعات درس وغیرہ کے موقعہ پر اپنے مخصوص انداز میں اکثر سنایا کرتے تھے۔ابھی آپ کشمیر میں ہی تھے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ غائبانہ تعارف حاصل ہوا۔جس کا موقع غالباً براہین احمدیہ کے ابتدائی حصہ کی اشاعت کے ذریعہ میسر آیا تھا اور اس کے بعد غائبانہ رنگ میں ہی خط و کتابت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جو مزید حسنِ ظن اور جذب و کشش کا باعث بنا۔اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف مجدد ہونے کا دعویٰ تھا اور ابھی سلسلہ بیعت بھی شروع نہیں ہوا تھا اور نہ کوئی جماعت تھی۔اسی زمانہ میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود کی زیارت کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔یہ اس روحانی استاد و شاگرد کی پہلی ملاقات تھی اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنے درسوں وغیرہ میں اس ملاقات کا ذکر بڑی محبت اور شوق کے ساتھ سنایا کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ جب میں پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کی غرض سے قادیان گیا تو بٹالہ سے یکہ میں بیٹھ کر قادیان پہنچا۔جب میں مسجد مبارک والے چوک میں پہنچا تو میں نے یکہ سے اترتے ہی ایک شخص سے پوچھا کہ ”مرزا صاحب کہاں ہیں ؟ اس وقت چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گو یا گمنامی کی حالت میں تھے اور قادیان میں حضور کے چچا زاد بھائی مرزا امام دین صاحب اور مرزا نظام دین صاحب ہی مشہور و معروف تھے۔اس لئے اس شخص نے یہ سمجھ کر ا که یه نو وارد انسان غالباً ان مرزا صاحبان کے متعلق پوچھتا ہو گا۔ان کے دیوان خانہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اندر چلے جاؤ مرزا صاحب یہیں بیٹھے ہوں گے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے۔کہ میں نے جو آگے بڑھ کر دیوان خانہ میں جھانکا تو وہاں صحن میں یہ ہر دو مرزئے ، مجلس جمائے بیٹھے تھے اور پرانے زمیندارہ طریق پر ان کے اردگرد بعض دوسرے لوگ بھی جمع تھے اور حلقہ کا دور چل رہا تھا۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ اس نظارہ کو دیکھ کر مجھے ایسا دھکا "