مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1038
مضامین بشیر ۱۰۳۸ اسلام کے انتقام والے مضمون کے متعلق دوستوں کا سوال خدا کے لئے نفس مضمون کی طرف توجہ دیجئے! ۲۱ نومبر ۱۹۵۰ء کے الفضل میں میرا ایک مضمون زیر عنوان ” خدائے اسلام کا زبر دست انتقام شائع ہوا تھا۔اس پر دو دوستوں نے سوال کہلا کر بھیجے ہیں۔یہ سوال نفسِ مضمون سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ بعض ثانوی باتوں پر پیدا ہوئے ہیں جو میرے مضمون میں ضمنی طور پر بیان کی گئی تھیں۔مجھے یقیناً بہت خوشی ہوتی اگر اصل مضمون کے متعلق کوئی بات کہی جاتی کیونکہ اصل مضمون کو نظر انداز کر کے محض ضمنی اور ثانوی امور کی طرف توجہ دینا کوئی اچھی علامت نہیں سمجھی جاسکتی۔تاہم چونکہ مجھ تک یہ سوال پہنچے ہیں اس لئے مختصر اشارہ کے رنگ میں جواب دیتا ہوں۔پہلا سوال ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب کی طرف سے ہے جو یہ ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مغل لکھا ہے لیکن حضور نے ایک الہام الہی کی بنا پر اپنے آپ کو ابن فارس قرار دیا ہے ؟ اس کے متعلق پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئیے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو کبھی کبھی ابن فارس لکھا ہے تو اس کے مقابل پر آپ نے بے شمار دفعہ مغل بھی لکھا ہے تو جب خود حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو مغل لکھا ہے تو آپ کی اتباع میں میرا آپ کو مغل لکھ دینا قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔بے شک خدا تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ تم ” ابنِ فارس“ ہو اور اس کی وجہ سے آپ نے اپنے آپ کو ابن فارس“ کے طور پر پیش بھی کیا مگر با وجود اس کے آپ نے ہزاروں مرتبہ اپنے آپ کو مغل بھی لکھا بلکہ آپ کے الہام میں بھی آپ کو مرزا کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔66 اصبر سنفرغ یا مرزا۔د یعنی مرزا ! ذرا ٹھہر وہم ابھی فارغ ہوتے ہیں۔“ ۱۵۷ اوپر کے الہام کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا بھی ہے جس میں آپ نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دربار میں دیکھا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو دیکھ کر فرمایا: مرزا حاضر ہے۔