مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1039
۱۰۳۹ مضامین بشیر اب ظاہر ہے کہ مرزا صرف مغلوں یا ان کے توابع کا ہی لقب ہے نہ کہ ہر ایرانی کا کیونکہ ایران میں سینکڑوں سال سے سید اور پٹھان وغیرہ بھی بستے ہیں مگر وہ مرزا نہیں کہلاتے۔بے شک بعض اوقات بعض غیر مغلوں کو بھی مرزا کا خطاب ملا ہے مگر وہ مغلوں کے توابع کے طور پر ملا ہے نہ کہ مستقل حیثیت میں۔بہر حال جس طرح فارس کا لفظ الہامی ہے اسی طرح مرزا کا لفظ بھی الہامی ہے۔دوسرا جواب اس سوال کا یہ ہے کہ دراصل یہ دو نو باتیں ٹھیک ہیں۔یعنی یہ بھی ٹھیک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغل تھے اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ آپ ابن فارس بھی تھے۔مغل تو آپ قومی لحاظ سے تھے اور اہل فارس آپ اپنے آباؤ اجداد کے آخری وطن کے لحاظ سے تھے اور یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ بالکل درست ہیں اور ہر گز متضاد نہیں۔ابتدائی زمانوں میں قوموں میں غیر معمولی حرکت ہوا کرتی تھی اور وہ نقل مکانی کر کے ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف اور دوسرے ملک سے تیسرے ملک کی طرف جاتی رہتی تھیں۔یہی مغلوں کے ساتھ ہوا کہ اوائل میں وہ چین کے شمال مغربی علاقہ میں آباد تھے۔اور پھر آہستہ آہستہ حرکت کر کے مملکتِ فارس کی حدود میں داخل ہو گئے۔اس لئے وہ ایک جہت سے مغل بھی رہے اور دوسری جہت سے اہل فارس بھی بن گئے۔یہ اسی قسم کی بات ہے جیسے کہ مثلاً سید شروع میں عرب میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں ان میں سے بہت سے لوگ نقل مکانی کر کے ہندوستان میں آگئے۔اس طرح وہ عربی بھی رہے اور ہندوستانی بھی بن گئے۔پس اب اگر انہیں کوئی شخص اصل کے لحاظ سے عربی کہہ دے اور دوسرا بعد کے وطن کے لحاظ سے ہندوستانی کہہ دے تو دونو باتیں درست سمجھی جائیں گی اور کوئی تضاد نہیں ہو گا۔یہی حال ہندوؤں یعنی آرین نسل کا ہے جو شروع میں کا کیشیا کے شمالی علاقہ میں آباد تھے اور پھر ان کا ایک حصہ مغربی یورپ کی طرف چلا گیا اور دوسرا ہندوستان آگیا۔اور اس طرح انہوں نے بھی گویا دہر اوطن اختیا کر لیا۔الغرض میری رائے میں ) واللہ اعلم بالصواب ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مغل اور ابنِ فارس ہر دو الفاظ درست ہیں۔آپ مغل ہیں کیونکہ آپ قومی لحاظ سے مغل ہیں اور آپ ابن فارس بھی ہیں کیونکہ آپ کے آبا و اجداد کا آخری وطن فارس تھا جس طرح کہ مثلاً حضرت سلمان فارسی کے آباؤ اجداد کا آخری وطن فارس تھا۔گو اصل کے لحاظ سے وہ بھی بعض روایتوں کے مطابق دوسری جگہ کے تھے۔واللہ اعلم وهو العليم الخبير۔تیسرا جواب اس سوال کا یہ ہے کہ اگر بالفرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغل نہ بھی ہوں بلکہ صرف اہل فارس میں سے ہوں ( کیونکہ یہ سوال غالباً ابھی مزید تحقیق چاہتا ہے ) تو پھر بھی میری دلیل اصولی طور پر قائم رہتی ہے۔کیونکہ میں نے محض ضمنی طور پر مغلوں کو منگولیوں کا چچا زاد بھائی کہہ کر یہ نکتہ