مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1026 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1026

مضامین بشیر خدائے اسلام کا زبردست انتقام سپین کی زمین اسلام کے انتقام کی پیاسی ہے قرآن شریف اور حدیث میں خدا تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان کی گئی ہیں جن کے لئے قرآن کریم نے اسماء حسنی ( یعنی عمدہ اور خوبصورت صفات ) کا مبارک نام تجویز فرمایا ہے کیونکہ خدا کی تمام صفات خواہ وہ رحمت کی ہوں یا غضب کی بہر حال وہ بحیثیت مجموعی مخلوق کی ہی اصلاح اور بہتری اور ترقی کا موجب ہوتی ہیں۔اسی لئے ایک حدیث قدسی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا نے محمد سے فرمایا ہے کہ ان رحمتی غلبت غضبی : یعنی میری رحمت میرے غضب پر محمد : د غالب ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جن باتوں میں بظاہر خدا کے غصہ کا اظہار ہوتا ہے۔دراصل غور کیا جائے تو ان میں بھی اس کی رحمت کا پہلو ہی غالب ہوا کرتا ہے اسی قسم کی صفات میں خدا کی ایک صفت ذ وانتقام اور منتظم ہے یعنی انتقام لینے والا خدا۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ 6 ۱۵۰ د یعنی خدائے اسلام غالب خدا ہے اور مجرم کو بغیر انتقام کے نہیں چھوڑتا“ اور دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ ۱۵۱ یعنی ہم مجرموں سے انتقام لے کر رہتے ہیں۔“ خدا کی یہ صفت انتقام ایسے باریک در بار یک رنگ میں کام کرتی ہے کہ بعض صوفیاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ بسا اوقات خدا کے نیک بندے بھی اس صفتِ الہی کی زد میں آنے سے محفوظ نہیں ہتے۔بے شک عفوا ور درگزر کے ذریعہ کسی کا بچ جانا اور بات ہے ورنہ اگر کوئی نیک انسان بھی کسی دوسرے شخص کو کوئی نا واجب دکھ پہنچاتا ہے تو خدائے منتقم کی صفت انتقام اپنے مخفی اور بار یک در بار یک قانون کے ذریعہ کسی نہ کسی طریق پر کسی نہ کسی رنگ میں اس کا بدلہ لے کر چھوڑتی ہے۔حق یہ ہے کہ اسلام کا خدا اسلام کے لئے اور مسلمانوں کی جماعت کے لئے بلکہ ہر سچے مسلمان فرد کے لئے عجیب قسم کی غیرت رکھتا ہے اور گو وہ بسا اوقات عفو سے بھی کام لیتا ہے اور پردہ پوشی بھی فرماتا ہے لیکن