مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1027 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1027

۱۰۲۷ مضامین بشیر بعض اوقات اس پر دہ پوشی کے پردہ میں بھی اس کے انتقام کی مخفی تاریں اپنا خاموش کام کرتی چلی جاتی ہیں لیکن اس کی غیرت سب سے زیادہ جوش میں اس وقت آتی ہے جبکہ کوئی ظالم انسان اس کے قائم کئے ہوئے دین اور قائم کی ہوئی جماعت پر ظلم کا ہاتھ اٹھا کر انہیں مٹانے کے درپے ہوتا ہے۔تاریخ اسلام کا یہ ایک کھلا ہو اور ق ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسری کے نام تبلیغی خطوط روانہ کئے تو اس پر بد بخت کسری نے تو غصہ میں آکر آپ کا مکتوب مبارک پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا لیکن قیصر نے زیادہ شرافت دکھائی اور گو اس نے اپنے ماحول کے ڈر کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا مگر گستاخی کا رنگ بھی اختیار نہیں کیا بلکہ بعض تائیدی الفاظ بھی زبان پر لایا۔روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو غیر مسلم فرمانرواؤں کے رویہ کے متعلق اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا: اما هؤلاء لا فيمزقون و اما هو لاء فسيكون لهم بقيه | د یعنی اب کسری کی حکومت تو فوراً پاش پاش کر دی جائے گی لیکن قیصر کی حکومت کو ۱۵۲ کچھ مہلت ملے گی۔“ چنانچہ یہی ہوا کہ خدائے ذوانتقام نے کسریٰ کی عظیم الشان حکومت کو جس کے رعب کے سامنے آدھی دنیا کا نپتی تھی مسلمانوں کی بے سروسامان مٹھی بھر فوج کے سامنے اس طرح بکھیر کر رکھ دیا جس طرح کہ ایک تیز آندھی کے سامنے جنگل کا خس و خاشاک اڑتا ہے اور دوسری طرف قیصر کی حکومت مسلمانوں کے پے در پے حملوں سے بہت سا نقصان اٹھانے کے باوجو د سینکڑوں سال تک قائم رہی۔کسری کے لئے خدا کا جذبہ انتقام جوش میں تھا جس نے اس کے عظیم الشان محل کو ایک ہی ضرب سے خاک میں ملا دیا اور قیصر کے لئے خدا کی ذرہ نواز رحمت آڑے آئی اور گرتے گرتے قصر پر بھی سینکڑوں سال کی مہلت مل گئی۔ان دونوں حکومتوں کی تقدیر میں ایک طرف خدائے منتظم اور دوسری طرف خدائے علیم کی مخفی تاریں کام کر رہی تھیں اور بالآخر وہی ہوا جس کی رسول خدا نے خبر دی تھی۔اسی قسم کا ایک واقعہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔افغانستان کی حکومت نے ( جو آجکل بدقسمتی سے پاکستان کے درپے ہو کر اپنے آپ کو خراب کر رہی ہے ) امیر حبیب اللہ خان کے عہد میں جماعت احمدیہ کے ایک نامور بزرگ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب شہید کو محض احمد یہ عقائد کی وجہ سے انتہاء درجہ ظالمانہ حالات میں سنگسار کرا دیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے خدا سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی کہ اس ظلم کی وجہ سے کابل کی مملکت میں ایک تباہی رونما ہوگی۔چنانچہ صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد کا بل اور اس کے گرد و نواح میں ایسا خطرناک ہیضہ پھوٹا کہ