مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1013 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1013

مضامین بشیر الغرض چونکہ آجکل بیمہ زندگی کی مروجہ پالیسیوں میں جہانتک مجھے علم ہے لازماً کسی نہ کسی جہت سے جوئے اور سود کا عنصر داخل ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں اسلام میں قطعی طور پر حرام ہیں اس لئے وہ زندگی کا بیمہ بھی جو ان عناصر کا مرکب ہو ہرگز جائز نہیں سمجھا جاسکتا۔ہاں اگر کوئی ایسی پالیسی ایجاد ہو جائے جو سود اور جوئے کے عصر سے بالکل پاک ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا یقیناً جائز ہوگا بلکہ یہ ایک اہم قومی ضرورت کو پورا کرنے والی چیز ہوگی۔جس کے لئے سب خدام اسلام اس کے موجد کے ممنون اور شکر گزار ہوں گے۔یہ تو ظاہر ہے کہ بیمہ کا مسئلہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود نہیں تھا بلکہ خالصہ موجودہ زمانہ کی پیداوار ہے۔اس لئے اس کے متعلق شریعت میں براہ راست کوئی حکم یا ہدایت موجود نہیں۔پس لازماً اس کے متعلق اسلام کی اصولی تعلیم کی روشنی میں قیاس کرنا ہوگا اور یہ قیاس سود اور جوئے کے صریح اور واضح احکام کی موجودگی میں یقیناً اس کے خلاف جاتا ہے۔لیکن دوسری طرف موجودہ زمانہ کے پیچدار اقتصادی مسائل کا یہ تقاضا ہے کہ اس بارے میں کوئی نہ کوئی انتظام سوچا جائے۔یہ درست ہے کہ اگر کامل اسلامی حکومت جسے مثالی یعنی آئیڈیل حکومت کہنا چاہئے قائم ہوا اور وہ نعوذ باللہ دیوالیہ نہ ہو چکی ہو تو ایسی حکومت کے وسیع ذرائع اور وسیع اختیارات کے ہوتے ہوئے یہ سوال حقیقہ پیدا ہی نہیں ہوتا اور لوگ اس ارضی جنت کو حاصل کر لیتے ہیں جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ : ۱۴۷ إنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوْعَ فِيهَا وَلَا تَعْرُى وَأَنَّكَ لَا تَطْمُوا فِيهَا وَلَا تَضُحى BO ود یعنی سچی بہشتی زندگی ( جو اس مادی عالم سے تعلق رکھتی ہے ) یہ ہے کہ اے انسان تو اس میں بھوکا نہ رہے اور نہ ہی ضروری لباس سے محروم ہو اور نہ ہی پانی کی تکلیف اٹھائے اور نہ ہی سر چھپانے کی جگہ کے بغیر گرمی میں مارا مارا پھرے۔مگر جب تک حکومت کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک یہ ضروری ہے کہ اقتصادیات کے ماہروں اور شریعت اسلامی میں گہری نظر رکھنے والوں کی ایک مشتر کہ کمیٹی کے ذریعہ ایسی تدابیر کا جائزہ لیا جائے جن سے یا تو زندگی کے بیمہ کی کوئی ایسی صورت دریافت ہو جائے جس میں سود اور جوئے کے عصر کا دخل نہ ہو اور یا بیمہ زندگی کے مقابل پر کوئی اور ایسا انتظام سوچا جائے جو قوم کی بے سہارا عورتوں اور بے سہارا بچوں اور بے سہارا بوڑھوں کے لئے تسلی بخش قیام کا موجب ہو ورنہ دیندار لوگ تو بہر حال رکیں گے خواہ انہیں اس کے لئے اپنا سب کچھ کھونا پڑے مگر اس بھو کے بیل کی طرح جو ایک چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر قریب کے سبز کھیت کی کشش کا مقابلہ نہیں کرسکتا، کمزور لوگ جو عموماً اقتصادی امور کو دینی امور پر زیادہ ترجیح دیتے ہیں آہستہ آہستہ ڈگمگانے شروع ہو جائیں گے۔