مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1012
مضامین بشیر ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اسی دوراندیشانہ اصول کے ماتحت اسلام نے ورثہ کا قانون جاری فرمایا ہے اور پھر اسی اصول کے ماتحت اسلام نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ کوئی شخص کسی غیر وارث شخص کے لئے اپنی جائیداد کے تیسرے حصہ سے زیادہ کی وصیت نہیں کر سکتا۔جس کا دوسرے الفاظ میں یہ مطلب ہے کہ کم از کم دو تہائی حصہ بہر حال وارثوں کے لئے محفوظ رہنا چاہئے اور اصولی طور پر بھی قرآن شریف ہدایت فرماتا ہے کہ : وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۱۴۵ د یعنی انسان کو صرف حال میں ہی مستغرق نہیں رہنا چاہئے بلکہ مستقبل کی طرف بھی نظر اٹھا کر دیکھنا چاہئے کہ آیا اس کا مستقبل محفوظ ہے یا نہیں۔“ یہ آیت حقیقۃ اخروی اعمال کے پیش نظر نازل کی گئی ہے اور اس میں انسان کو ہوشیار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دنیا کے اعمال میں آخرت کے حساب کتاب کو مد نظر رکھے مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ اس آیت میں اس عمومی اصول کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کو اپنے دنیوی اعمال میں بھی مستقبل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور اپنے پیچھے اہل وعیال کا انتظام لازماً ہمارے مستقبل کا حصہ ہے۔اسی طرح حدیث میں آنحضرت علیہ اپنے صحابی سعد بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ :۔انک ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس في ايديهم ۱۴۶ د یعنی یہ بات کہ تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے غنی چھوڑ کر جائے اس بات سے بہت بہتر ہے کہ تو انہیں کنگال چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ ان آیات قرآنی اور ان احادیث سے ظاہر ہے کہ اسلام نے مستقبل کے انتظام کو ہر گز نا پسند نہیں کیا ( خاص متوکل لوگوں کا استثنائی معاملہ جدا گانہ ہے جن کا کفیل خود خدا ہوتا ہے ) بلکہ اسے بہتر خیال کیا ہے اور اس کی تحریک فرمائی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس وجہ سے ناجائز چیزوں کا استعمال جائز سمجھا جاسکتا ہے۔حرام چیز بہر حال حرام ہے اور اگر وہ کسی حلال چیز میں داخل ہوگی تو لازماً اسے بھی حرام کر دے گی۔مثلاً دودھ ایک حلال اور طیب چیز ہے مگر کوئی ہوشمند انسان ایسے دودھ کو نہیں پی سکتا جس میں چند قطرے پیشاب کے بھی شامل کر دیئے گئے ہوں۔پس بے شک مستقبل کا انتظام سوچنا برا نہیں بلکہ ہر طرح جائز اور واجبی ہے مگر اس انتظام میں سود اور جوئے ( یعنی اتفاق کی کھیل ) کو شامل کرنا کسی طرح جائز نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ وہ چیزیں ہیں جو بالآخر اس انتظام کی ساری برکت کو تباہ کر کے رکھ دیں گی۔