مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1014
مضامین بشیر 1+12 پھر اگر سوچا جائے تو قوم میں قربانی کی روح کو ترقی دینے کے لئے بھی اس قسم کا انتظام ضروری ہے جس کے ذریعہ لوگ اپنے پیچھے اپنے اہل وعیال کے گزارے کے متعلق تسلی پائیں۔ظاہر ہے کہ وہ شخص جسے یہ خطرہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد میرے بیوی بچے بالکل بے سہارا رہ جائیں گے وہ (سوائے ایسے خاص لوگوں کے جن کی نظر صرف خدا کی طرف ہوتی ہے اور جن کیلئے قربانی بہر حال ان کی روح کی غذا ہے ) کبھی اس دلیری اور جرات کے ساتھ قربانی کی طرف ( ہاں اس قربانی کی طرف جس میں موت و حیات کی بازی لگانی پڑتی ہے ) قدم نہیں اٹھا سکتا جس جرات کے ساتھ کہ وہ شخص قدم اٹھا سکتا ہے جو یہ تسلی رکھتا ہو کہ میرے مرنے کے بعد میرے بیوی بچوں کے گزارے کا سامان موجود ہے۔پس اگر غور کیا جائے تو یہ سوال محض اقتصادی سوال ہی نہیں بلکہ حقیقۂ قومی ترقی اور قومی استحکام اور قومی تربیت کا بھی بھاری ذریعہ ہے جس کی طرف سے کوئی زندگی کا عزم رکھنے والی قوم آنکھیں بند نہیں کر سکتی لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم لوگ دوسروں کے پکے پکائے کھانے کی طرف شوق سے لپکتے ہیں خواہ اس میں گو بر ہی ملا ہوا ہو مگر خود اپنی تد بیرا اور اپنی کوشش سے اپنے لئے پاک کھانا پکانے کے واسطے تیار نہیں ہوتے یا خلاصہ کلام یہ کہ : ا۔چونکہ بیمہ زندگی کی مروجہ پالیساں میرے علم میں سب کی سب ایسی ہیں جن میں کسی نہ کسی رنگ میں سود اور جوئے کا عصر داخل ہو جاتا ہے اور چونکہ یہ دونوں چیز میں اسلام میں قطعی طور پر نا جائز ہیں اس لئے لازماً ایسی پالیساں بھی جائز نہیں سمجھی جاسکتیں جن میں سود یا جوئے کا عصر شامل ہو۔۲۔ہاں اگر کوئی ایسی پالیسی ایجاد ہو سکے جس میں ان دو نا جائز عناصر کا دخل نہ ہو تو اس پر ہماری شریعت کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جہانتک ممکن ہو ہر مسلمان اپنے مستقبل کی طرف بھی نگاہ رکھے اور اپنے اہل و عیال کو ایسی حالت میں چھوڑ کر نہ جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔۔جب تک حکومت کو ان امور میں ضروری مقام حاصل نہیں ہوتا یا جب تک بیمہ کمپنیاں کوئی ایسی پالیسی ایجاد نہیں کرتیں جو سود اور جوئے کے عصر سے پاک ہو اس وقت تک یہ ایک قومی فرض ہے کہ باہم مشورہ سے کوئی ایسا انتظام سوچا جائے جس کی وجہ سے لوگ اپنے پیچھے اپنے اہل وعیال کے گزارے کے متعلق مطمئن ہوں اور نہ صرف وقت آنے پر امن کی موت مرسکیں بلکہ قربانی کی موت کے لئے بھی ہر وقت دلی شوق کے ساتھ تیار رہیں۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين ( مطبوعه الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۵۰ء)