مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1000 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1000

مضامین بشیر باقی رہا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیم کے متعلق فرمایا تھا کہ لوعاش لكان صديقاً نبیا - یعنی اگر یہ بچہ زندہ رہتا تو وہ ایک صدیق نبی بنتا۔سو یہ بالکل درست ہے مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ہر نبی کا لڑکا یا نبی کا ہر لڑ کا نبی بن سکتا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوسرے بچوں ( قاسم ، طاہر اور طیب ) کے متعلق بھی ایسا فرماتے۔مگر آپ نے اپنے ان بچوں کے متعلق ہرگز یہ الفاظ نہیں فرمائے۔پس ثابت ہوا کہ یہ صرف ایک ذاتی اور انفرادی بات تھی جو حضرت ابراہیم کی ذات کو مد نظر رکھ کر فرمائی گئی۔چونکہ ان کے اندر بالقوۃ طور پر وہ اوصاف موجود تھے جو نبوت کے انعام کے جاذب بنتے ہیں۔اس لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق خدا سے علم پا کر فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا لیکن اپنے کسی اور بچے کے متعلق ایسا نہیں فرمایا اسی طرح ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں حضرت اسمعیل اور حضرت اسحق میں نبوت کا جو ہر موجود تھا۔اس لئے وہ نبی بنائے گئے مگر حضرت ابراہیم“ کے باقی لڑکوں زمران اور یقسان اور ریان وغیرہ کو ہرگز یہ انعام نہیں ملا۔پھر حضرت اسحق کے بیٹے حضرت یعقوب میں نبوت کا جو ہر موجود تھا۔اس لئے انہیں نبوت ملی مگر حضرت اسحق کے بڑے لڑکے عیسو کو یہ انعام نہیں ملا۔پھر حضرت یعقوب کے چھوٹے لڑکے حضرت یوسف کو نبوت حاصل ہوئی۔مگر حضرت یعقوب کے دوسرے گیارہ لڑکے اس انعام سے محروم رہے پھر حضرت داؤد کے فرزند حضرت سلیمان کو تو نبوت ملی۔مگر حضرت سلیمان کے لڑکے کو یہ امتیاز حاصل نہیں ہوا بلکہ وہ الٹا جسد ( یعنی بے جان جسم ) کے نام کا مستحق قرار پایا۔اور مزید انعام ملنا تو درکنار پہلے انعام کو بھی ہاتھ سے کھو بیٹھا۔پس یہ دعوی بالکل باطل اور خلاف واقعہ ہے کہ نبوت ایک ورثہ کا انعام ہے۔حق یہ ہے کہ نہ تو نبوت جسمانی ورثہ میں ملتی ہے اور نہ ہی نبوت کا ورثہ جسمانی لحاظ سے آگے چلتا ہے۔پس جبکہ یہ دعویٰ ہی باطل اور قرآنی اور تاریخی شہادت کے سراسر خلاف ہے تو یہ اعتراض کس طرح ہوسکتا ہے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جسمانی لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑکے نہیں تھے اس لئے وہ کیونکر نبی بن گئے؟ سنو ! وہ اسی طرح ہی بن گئے جس طرح کہ حضرت نوح نبی بنے بغیر اس کے کہ ان کا باپ نبی تھا۔اور جس طرح کہ حضرت ابراہیم نبی بنے بغیر اس کے کہ ان کا باپ نبی تھا۔اور جس طرح کہ حضرت موسیٰ نبی بنے اور جس طرح کہ حضرت داؤد نبی بنے اور جس طرح کہ حضرت عیسی نبی بنے۔ہاں روحانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود ضرور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے فرزند ہیں اور یہی وہ گہری حقیقت ہے جس کی ۱۳۸ طرف آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ میں اشارہ کیا گیا ہے۔یعنی گو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی لحاظ سے کسی نرینہ بچے کے باپ نہیں