مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 999 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 999

۹۹۹ مضامین بشیر رہتے ہوئے کیوں نبی نہیں بن سکتے ؟ خدا نے تو نبوت کے انعام کے لئے صرف اس قدر اعلان فرمایا ہے کہ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه ، یعنی یہ بات صرف خدا ہی جانتا ہے کہ نبوت کے منصب پر کون شخص فائز ہونا چاہیے اور خدا جسے چاہتا ہے نبی بنا دیتا ہے۔اس کے علاوہ باقی سب دعوے باطل اور بے دلیل ہیں۔دوسرا سوال یہ ہے کہ چونکہ نبوت کا حق صرف بیٹے کو ہو سکتا ہے اس لئے جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی فرزند زندہ ہی نہ رہا جسے نبوت ملتی تو اس کے بعد اور کسی کو کیا حق ہو سکتا ہے؟ سواس سوال کا اصولی جواب بھی اوپر ہی کی قرآنی آیت میں آجاتا ہے جہاں خدا فرماتا ہے کہ نبوت کے انعام کا فیصلہ کرنا صرف ہمارا کام ہے۔پس جب نبوت کا فیصلہ صرف خدا کی رائے اور خدا کے انتخاب پر ہے تو یہ دعویٰ کرنا کہ نبوت صرف بیٹے کو مل سکتی ہے ایک بالکل باطل دعوی ہے جس کی کوئی سند نہیں۔کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ نبی تھا جس کی وجہ سے انہیں نبوت ملی ؟ اور کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باپ نبی تھا جس کا ورثہ حضرت موسیٰ کو پہنچا ؟ پھر کیا سرور کائنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ نبی تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے انعام سے نوازا گیا ؟ یہ سب جھوٹے خیالات اور باطل دعوے ہیں جن کی نہ قرآن شریف میں کوئی سند ہے اور نہ حدیث و تاریخ میں ہی ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔دوسری طرف اگر نبوت ورثہ میں پہنچتی ہے تو کیا حضرت نوح کے بیٹے کو وراثت ملی جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ اِنَّہ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ یعنی وہ ایک غیر صالح انسان تھا پھر کیا حضرت سلیمان کے بیٹے کو نبوت ملی ، جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ : وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَنَ وَالْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيْهِ جَسَدًا دو یعنی سلیمان کی حکومت اس فتنہ میں مبتلا ہوئی کہ سلیمان کا لڑکا صرف ایک بے جان جسم تھا جس کے اندر زندگی کی کوئی روح نہیں تھی۔“ حق یہ ہے کہ روحانی ورثہ کے معاملہ میں ہمارا حکیم وعلیم خدا جسمانی رشتہ کے حق کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔نہ اوپر سے نیچے کی طرف اور نہ نیچے سے اوپر کی طرف بلکہ اسے صرف ذاتی اوصاف پر مبنی قرار دیتا ہے۔اگر ایک کا فریا مشرک باپ کا بیٹا روحانی ترقی کے رستہ پر گامزن ہوتا ہے اور نبوت کے اوصاف کا جاذب بنتا ہے تو خدا اسے نبوت کے انعام سے سرفراز کر دیتا ہے اور اس کا ایک غیر مومن باپ کا بیٹا ہونا اس کی ترقی میں ہرگز روک نہیں بنتا۔اس کے مقابل پر اگر ایک نبی کا لڑکا روحانی انعاموں کا جاذب نہیں بنتا تو وہ ان انعاموں سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے باپ کا نبی ہونا اسے ہرگز ان انعاموں کا حقدار نہیں بنا سکتا اور یہی اصول نبیوں کے بعد خلفاء کے تقرر میں بھی چلتا ہے۔