مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 985 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 985

۹۸۵ مضامین بشیر آنے والے حج کے دن بہت دعائیں کی جائیں ان دعاؤں کا بہترین وقت دن کا آخری حصہ ہے موجودہ اطلاعات کے مطابق آنے والی عید الاضحی انشاء اللہ ۲۴ ستمبر کو بروز اتوار ہوگی۔اس سے پہلا دن یعنی ۲۳ /ستمبر بروز ہفتہ حج کا دن ہے جو اسلام کی اہم ترین عبادتوں میں سے خاص برکتوں والی عبادت ہے۔جب کہ چہار اکناف عالم سے مسلمانوں کی بڑی بھاری تعداد خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی غرض سے مکہ مکرمہ میں جمع ہو کر دنیا کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ با برکت مسجد یعنی مسجد الحرام اور اس کے ماحول میں ایک اجتماعی عبادت بجا لاتی ہے۔اس عبادت کا مرکزی نکتہ عرفات کا قیام یعنی وقوف ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے ارشاد کے مطابق ذوالحجہ کی نویں تاریخ کی شام کو یعنی حج والے دن کے پچھلے حصہ میں ہوتا ہے۔جسے عصر کی نماز سے لے کر مغرب تک کا وقت سمجھنا چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ آپ عرفات کے رسیلے اور ٹیلے والے میدان میں عصر سے لے کر مغرب تک قیام فرماتے تھے جو اصطلاحاً وقوف کہلاتا ہے اور یہ سارا وقت ذکر الہی اور دعاؤں میں گزارتے تھے اور عرفات کا نام بھی عرفات اسی لئے رکھا گیا ہے کہ یہاں گو یا بندوں کو اپنے آقا کی شناخت اور عرفان کا موقعہ میسر آتا ہے اور عرفات کی دعاؤں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی اہمیت دی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں : ۱۲۴ وخير الدعاء دعاء يوم عرفة و خير ما قلت انا والنبيون من قبلى لا اله الا الله وحده لا شریک له _ د یعنی بہترین دعا عرفات کے میدان کی دعا ہے اور میری اور مجھ سے پہلے نبیوں کی بہترین تعلیم یہ ہے کہ خدائے واحد کے سوا کوئی اور عبادت کے قابل نہیں اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے“ اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ حج میں دعا کا بہترین موقع عرفات کے وقوف کا وقت ہے جو حج والے دن عصر سے لے کر مغرب تک ہوتا ہے اور چونکہ خدا کی ہر نعمت میں ایک وسعت کا پہلو بھی ہوتا ہے، اس لئے اسلام میں اولیاء اور صوفیاء کا ہمیشہ سے یہ طریق رہا ہے کہ وہ حج کے بغیر بھی اس وقت کو